خطبات محمود (جلد 14) — Page 156
خطبات محمود ۱۵۶۰ سال ۱۹۳۳ء ہوں کہ انہیں بوجھ سے نکالوں، وہ تو بوجہ اخلاص کے موجودہ وقتوں اور مالی مشکلات کے باوجود ہر آواز پر لبیک کہتے ہیں مگر بُزدل اور کمزور ایمان والا بیٹھا رہتا ہے اور کہتا ہے دیکھوں کون لوگ اس کے مخاطب ہیں۔دیکھوں کون اس آواز پر لبیک کہتا ہے۔میرا منشاء ہے کہ اب ایسے لوگوں کو مخاطب کیا کروں تا وہ جاگیں اور بیدار ہوں یا پھر دوسروں کیلئے اپنی جگہ خالی ہی کردیں۔پس اس خطبہ کے ذریعے میں پہلے قادیان والوں کو اور پھر باہر کی جماعتوں کو توجہ دلا کر ! اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوتا ہوں۔میری ذمہ داریاں تو پھر بھی رہیں گی ہاں اپنی ذمہ داری کے ایک حصہ کو میں ادا کرتا ہوں۔اور امید رکھتا ہوں کہ اگر کوئی کو تا ہی رہ گئی ہے تو لوگ کوشش کر کے اس داغ سے اپنے آپ کو بچالیں گے۔جو اپنا فرض ادا نہ کرنے سے انسان کے دل اور اُس کے ماتھے پر لگا دیا جاتا ہے۔الفضل ۱۵ - جون ۱۹۳۳ء)