خطبات محمود (جلد 14) — Page 11
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ تو نہیں رکھے۔مگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ بھی ان میں ہی شامل ہیں جنہوں نے کہ پورا فائدہ اٹھایا۔کیونکہ انہوں نے بھی اللہ تعالٰی کے حکم کی تعمیل کی۔لیکن کئی ایسے بھی ہوں گے جنہوں نے استطاعت کے باوجود روزے نہیں رکھے یا پوری طرح نہیں رکھے۔یہ لوگ جسمانی بیماروں کی طرح معذور نہ تھے کیونکہ روحانی بیماریوں میں عذر قبول نہیں کیا جاتا۔میں نے کئی دفعہ بیان کیا ہے کہ روزوں میں شدت ناجائز ہے۔مسافر اور بیمار کیلئے روزہ رکھنا ایسا ہی بیہودہ ہے جیسا حائضہ کیلئے روزہ رکھنا اور کون نہیں جانتا کہ حائضہ کا روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں بلکہ بیوقوفی اور جہالت ہے۔اور بعض تو شاید اس بات پر ناراض ہی ہو جائیں کہ دین کا استخفاف کیا جا رہا ہے۔بعینہ یہی حال بیمار اور مسافر کا ہے، اس کیلئے بھی روزہ رکھنا نیکی نہیں۔اسی طرح وہ بوڑھا جس کے قومی مضمحل ہو چکے ہیں اور روزہ اسے زندگی کے باقی اشغال سے محروم کر دیتا ہے، اس کیلئے بھی روزہ رکھنا نیکی نہیں۔پھر وہ بچہ جس کے قومی نشو نما پارہے ہیں اور آئندہ پچاس ساٹھ سال کیلئے طاقت کا ذخیرہ جمع کر رہے ہیں، اس کیلئے بھی روزہ رکھنا نیکی نہیں ہو سکتا۔مگر جس میں طاقت ہے اور جو رمضان کا مخاطب ہے، وہ اگر روزہ نہیں رکھتا تو گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔بعض ایسے بیوقوف بھی ہیں جو سارا سال نماز کے قریب نہیں جاتے مگر روزہ چھوڑنے کو تیار نہیں ہوتے اور رمضان کے آخری جمعہ کی نماز کو ہی کافی سمجھتے ہیں۔ان کی مثال اس بیوقوف اور پاگل کی سی ہے جو کنکر جمع کرکے انہیں موتی سمجھ لے یا طشتریوں کے ٹکڑے اکٹھے کر کے یہ سمجھ لے کہ اس کے پاس روپے ہیں۔ایسا ہی وہ شخص بھی جاہل ہے جو نماز تو پڑھتا ہے مگر روزے چھوڑ دیتا ہے۔یاد رکھنا چاہیے کہ یہ بھی اہم احکام میں سے ہے۔مجھے بتایا گیا ہے کہ میرے ان خطبات سے جو کچھ عرصہ ہوا میں نے روزہ کی بلوغت کے متعلق پڑھے تھے، یہ خیال کرلیا گیا ہے کہ میں نے روزہ سے روکا ہے۔میں نہیں جانتا کہ ایسا خیال کرنے والے کتنے لوگ ہیں اور یہ خبر صحیح بھی ہے یا نہیں۔میں نے اس کی تحقیقات نہیں کی اور نہ ہی کرنا پسند کرتا ہوں۔لیکن اگر کوئی یہ خیال کرنے والے لوگ ہیں تو میں سمجھتا ہوں انہوں نے اپنے پر بھی ظلم کیا اور دوسروں پر بھی۔دوسروں پر اس لئے کہ ان کی دیکھا دیکھی ان میں بھی روزہ رکھنے کے متعلق سُستی پیدا ہو گئی۔اور اپنے پر اس لئے کہ خدا کے حکم کو نہ مانا۔وہ جاہل ہے جو ایسے مکان میں سوتا ہے جس کی ایک دیوار ہی نہیں، اس کا