خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 154 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 154

خطبات محمود ۱۵۷ سال ۱۹۳۳ ہے تو سمجھ لیں کہ بارہ مصیبتوں میں سے ایک مصیبت ان پر سے ٹل گئی ہے۔چندہ دینا مصیبت نہیں بلکہ غفلت کے بدلہ میں سزا ملنے کی مصیبت مراد ہے۔خداتعالی کے راستہ میں - قربانی کرنا ہمیشہ ترقی نعمت اور برکت کا موجب ہوتا ہے۔پس یہ مراد نہیں کہ قربانی کرنا مصیبہ ہے بلکہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں نے اپنے فرض کو ادا کر کے اس مصیبت سے اپنے آپ کو بچالیا جو نہ ادا کرنے کی صورت میں ان پر آسکتی تھی۔یعنی یا تو وہ اپنی کمزریوں کی وجہ سے جماعت سے نکال دیئے جاتے یا کسی اور گرفت میں آجاتے۔لیکن اگر اپنے فرائض کو ادا نہیں کیا گیا تو سب سے پہلی جماعت جو زجر کے نیچے آنی چاہیے اور آئے گی، وہ قادیان کی جماعت ہے۔میں قادیان کے دوستوں اور باہر کی جماعتوں کی بھی عنقریب ایک لسٹ طلب کروں گا اور دیکھوں گا کہ کون کون سی جماعتوں نے اپنا مئی کا فرض ادا کر دیا ہے پھر جن کے متعلق یہ معلوم ہوگا کہ انہوں نے مئی میں اپنا فرض ادا نہیں کیا ان کے متعلق مناسب تدابیر اختیار کروں گا۔اس میں شبہ نہیں کہ بجٹ سال کے آخر میں ختم ہوتا ہے لیکن اس میں شبہ نہیں کہ اگر شروع سال سے احتیاط نہ کی گئی تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ لوگ غافل رہیں گے اور اس طرح ان کے گناہوں کا ایک حصہ ہمیں بھی اٹھانا پڑے گا۔نگران کا فرض ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو ہروقت ہوشیار کرتا رہے اور اگر ہم ہر مہینہ انہیں توجہ نہیں دلائیں گے تو جو شخص اپنا فرض ادا نہیں کرے گا وہ بارہ مہینے کے بعد جب انتہائی سزا کا مستحق ہوگا تو اللہ تعالیٰ کے حضور جس طرح وہ سزا کا مستحق ہوگا، اسی طرح نگران بھی اس سزا کا حصہ دار ہوگا۔پس میں سمجھتا ہوں یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ہر مہینے یہ دیکھتے چلے آئیں کہ ذمہ داریاں ادا ہو رہی ہیں یا نہیں۔اب دوسرے مہینہ کی ذمہ داری شروع ہو رہی ہے۔آج 9 تاریخ ہے۔میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ جلد سے جلد مئی کی ذمہ داری ادا کر دیں۔اور جون کی ذمہ داری ادا کرنے کیلئے بھی سرگرم عمل ہو جائیں۔ورنہ ان لوگوں کو جو منہ سے احمدیت کا دعویٰ کرتے ہیں اور جن کا شور صرف اس لئے ہوتا ہے کہ فلاح خرچ گھٹادو فلاں مد میں کمی کردو میں ہوشیار کرتا ہوں کہ انہیں اس بات پر تیار رہنا چاہیئے کہ یا تو اپنے آپ کو مشقتوں میں ڈال کر اپنی ذمہ داریوں کو ادا کریں یا بُزدلوں کی طرح پیٹھ موڑ کر چلے جائیں۔اور یہ میدان ان لوگوں کیلئے چھوڑ دیں جو بظاہر غیر مؤمن ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے حضور مومنوں میں شامل ہیں یعنی وہ آئندہ جماعت میں داخل ہونے والے لوگ جن کی قربانیاں ان پچھلوں کیلئے شرمندگی کا موجب ہوں گی۔اور جن