خطبات محمود (جلد 14) — Page 143
خطبات محمود ۱۴۳ سال ۱۹۳۳ تو دوست اس کی تائید میں باتیں بنانے لگ جاتے ہیں۔جس پر امام کو بھی بولنا پڑتا ہے اور اس طرح وہ بات نہ صرف ایک شہر سے نکل کر ساری دنیا میں پھیل جاتی ہے بلکہ تاریخ میں بھی محفوظ ہو جاتی ہے۔ایسے ہی بیوقوف دوستوں کے متعلق کسی نے کہا ہے خدا مجھے میرے دوستوں سے بچائے۔جس شخص کو اللہ تعالٰی معرفت اور علم بخشے، اُسے حاکم بننے کا کبھی شوق نہیں ہوتا۔کیونکہ وہ جانتا ہے حکومت کی ذمہ داریاں کتنی وسیع ہوتی ہیں۔حاکم بننے کا خواہشمند ہمیشہ جاہل ہوتا ہے۔اسی لئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص خود کسی عہدہ کا طالب ہو، اُسے وہ عہدہ نہ دیا جائے اے۔مگر جاہل لوگ جن کے دل معرفت سے خالی ہوتے ہیں، وہ کہا کرتے ہیں ہمیں فلاں بات کا موقع کیوں نہیں دیا جاتا۔وہ اپنے لئے مختلف مواقع کو حق تصور کرتے ہوئے اگر ان سے انہیں فائدہ اٹھانے نہ دیا جائے تو کہہ دیتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں آگے بڑھنے سے روکا جاتا ہے۔اسی طرح بعض بیوقوف اپنے متعلق یہ خیال کرلیتے ہیں کہ فلاں کام ہم سے اچھا کوئی نہیں کر سکتا۔اس طرح ایسے لوگ بھی اپنی جہالت کا اظہار کرتے ہیں۔پھر کچھ اور لوگ ہوتے ہیں ان کا یہ مقولہ ہوتا ہے کہ دنیا میں جو بھی فیصلہ کیا جاتا ہے وہ غلط ہوتا ہے سوائے اُس کے جس پر اُن کی مہر ثبت ہو۔وہ منہ سے تو رسول کریم کو خاتم النبین کہتے ہیں مگر دراصل اپنے آپ کو خاتم الانسانیت سمجھ رہے ہوتے ہیں۔کوئی فیصلہ ہو جب تک اُن کی مہر اس پر نہ لگے، وہ کبھی اسے صحیح تسلیم نہیں کریں گے خواہ وہ خود دنیا کے جاہل ترین انسانوں میں سے کیوں نہ ہوں۔ایسے آدمیوں کی باتوں کی بعض دفعہ پرواہ نہیں کی جاتی مگر بعض دفعہ کرنی پڑی ہے، کیونکہ بعض دفعہ عقلمندوں کو بھی اس سے ٹھوکر لگنے کا احتمال ہوتا ہے۔میرے نوٹس میں پچھلے دنوں قادیان کے ایک واقعہ کے حالات لائے گئے۔قادیان میں ایک نکاح ہوا۔ایسا نکاح جو میرے نزدیک نہایت ہی ناپسندیدہ اور ہمارے سلسلہ کے طریق کے بالکل خلاف تھا۔اس کے متعلق امور عامہ نے کچھ سزائیں دی ہیں۔اور اس بارے میں میرے پاس متعدد لوگوں کی طرف سے شکایتیں پہنچی ہیں۔ان رقعوں میں نزلہ بر عضو ضعیف مے ریزد" کے ماتحت امور عامہ کو سخت بُرا بھلا کہا گیا ہے۔میں نزلہ ر عضو ضعیف مے ریزد" اس لئے کہتا ہوں کہ وہ فیصلہ میرا تھا، امور عامہ کا نہیں تھا۔مگر دانستہ یا نادانستہ طور پر بعض لوگوں نے امور عامہ کو بُرا بھلا کہنا شروع کر دیا۔اگر وہ شکایت کرنے والے ایمان دار ہیں تو بیوقوفی سے اور اگر بے ایمان ہیں تو شرارت سے انہوں نے اس لئے