خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 121 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 121

سال ۱۹۳۳ء خطبات محمود رض ۱۲۱ تعلیم گویا فرمایا کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔صحابہ نے عرض کیا کہ مدینہ کی عورتیں جعفر کے گھر میں روتی ہیں۔ونکہ آپ کا یہ اصل منشاء نہ تھا اس لئے آپ نے فرمایا ان کو روکو۔آپ نے یہ الفاظ محض اظہارِ درد کیلئے فرمائے تھے کہ جعفر وطن سے دور تھا، اس پر رونے والا کوئی نہیں۔یہ اس کی مسکینی کی موت کا احساس تھا۔مگر وہ تھوڑے سے عزیز جو مدینہ میں تھے اور باقی صحابیہ عورتوں کے دلوں میں بھی وہ درد پیدا ہوچکا تھا جو آپ پیدا کرنا چاہتے تھے۔اس لئے لوگوں نے جاکر روکا مگر وہ نہ رکیں۔اس پر کسی نے آکر رسول کریم ﷺ سے عرض کیا کہ وہ بند نہیں ہوتیں۔آپ نے فرمایا کہ ان کے منہ پر مٹی ڈالو یعنی ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو سے لیکن بعض لوگوں نے اس کا مفہوم صحیح نہ سمجھا اور فی الواقعہ مٹی اُٹھالی۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو جب علم ہوا تو آپ نے ان کو ڈانٹا اور بتایا کہ آپ کا یہ مطلب نہیں۔غرض قدرتی طور پر جب ایک شخص کے ساتھ تعلق ہوتا ہے اور وہ دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو ایک درد پیدا ہوتا ہے۔مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ مومن اسے دائمی جدائی سمجھتا ہے۔مومن کیلئے جُدائی دائمی نہیں ہوتی، یہ ایک سفر ہے جس میں کوئی پہلے پہنچ جاتا ہے اور کوئی پیچھے۔بعینہ اس طرح جس طرح ایک طالب علم کسی بیرونی ملک میں حصول تا کیلئے جاتا ہے تو ماں باپ یا دوسرے رشتہ داروں پر رقت طاری ہو جاتی ہے حالانکہ وہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ یہ معین وقت کی جدائی ہے جس کے نتیجہ میں جدا ہونے والا ترقیات حاصل کرے گا کمائے گا خود کھائے گا اور ہمیں کھلائے گا۔مگر یہ ایک غیر معین جدائی ہوتی ہے۔اور دیر اس جدائی سے زیادہ اثر ڈالتی ہے۔کیونکہ معلوم نہیں ہوتا وہ کب ختم ہو۔اور اس رنگ کا افسوس مومن کو ضرور ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے مولوی عبدالکریم صاحب کو خاص عشق تھا۔اور ایسا عشق تھا کہ اسے وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے اُس زمانہ کو دیکھا دوسرے لوگ اس کا قیاس بھی نہیں کرسکتے۔وہ ایسے وقت میں فوت ہوئے جب میری عمر سولہ سترہ سال تھی۔اور جس زمانہ سے میں نے ان کی محبت کو شناخت کیا ہے۔اُس وقت میری عمر بارہ تیرہ سال کی ہوگی یعنی بچپن کی عمر تھی۔لیکن باوجود اس کے مجھ پر ایک ایسا گہرا نقش ہے کہ مولوی صاحب کی دو چیزیں مجھے کبھی نہیں بھولتیں۔ایک تو اُن کا پانی پینا اور ایک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ان کی محبت۔آپ ٹھنڈا پانی بہت پسند کرتے تھے اور اسے بڑے شوق سے پیتے تھے۔اور پیتے وقت غٹ غٹ کی ایسی آواز آیا کرتی تھی کہ گویا ا