خطبات محمود (جلد 14) — Page 112
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء کہ اگر یہی حالت ہے تو پھر نیکی کی جدوجہد کی کیا ضرورت ہے۔اور پھر کیوں خدا ایک کو بڑا کردیتا ہے اور ایک کو چھوٹا۔جو بڑا ہوا اس میں اس کی خوبی کیا تھی۔خداتعالی نے اس کی طبیعت کو ایسا ہی بنایا تھا۔اور اگر کوئی چھوٹا ہوا تو اس میں اس کا کیا قصور ہے۔اس کی طبیعت ہی ایسی تھی کہ وہ بلندی کی طرف پرواز نہ کر سکے مگر یہ صحیح نہیں۔اصل بات یہ ہے کہ جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے انسان کی طبیعت ایک دائرہ کے اندر چلتی ہے حتی کہ ایک ہی۔مثلاً طبیعت ایک وقت میں مومن ہوتی ہے اور دوسرے وقت میں کافر مگر دائرہ وہی ہوتا ہے۔ایک انسان ہے جس کی طبیعت بدظنی کی طرف مائل ہے۔اب بدظنی ایک طبعی چیز ہے۔کبھی اس کا اثر ماں کے پیٹ میں ہی ہونا شروع ہو جاتا ہے۔کبھی باہر آکر۔کبھی باپ دادا کے اثرات کے نیچے انسان بدظنی میں مبتلا ہوتا ہے۔اور کبھی اور وجوہات سے حتی کہ بعض دفعہ ایک ہی سلسلہ میں دس پندرہ خاندانوں سے تعلق رکھنے والے افراد ایسے ملیں گے کہ ان سب کی طبیعت بدظنی کی طرف مائل ہوگی۔مذہب کے اثر کے ماتحت ایسے لوگ نیک تو ہو جائیں گے۔مگر نیکی میں خواہ کسی قدر بلند مقام حاصل کر جائیں، ان کا میلان اسی طرف رہے گا۔فرق صرف یہ ہوگا کہ بدظنی کا رنگ بدل جائے گا۔مثلاً اگر ایسا شخص نیک ہو جائے گا تو حد درجہ کی احتیاط کرے گا۔یہ زیادہ احتیاط بھی بدظنی کا ایک رنگ ہے۔بدظنی کیا چیز ہوتی ہے وساوس کی کثرت کا نام بدظنی ہے۔یہی وساوس کی کثرت اگر نیکی نہ ہونے کی صورت میں بدظنی کی شکل میں نمودار ہوتی ہے، تو نیک ہونے کی حالت میں زیادہ احتیاط کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔اور انسان کہتا ہے کہ اگر میں نے یوں کیا تو اس طرح نہ ہو جائے، اور اگر اس طرح کروں تو اس طرح نہ ہو جائے۔گویا بدظنی کی شکل بدل جائے گی۔وساوس کی نوعیت تبدیل ہو جائے گی۔مگر میلان وہی رہے گا۔نیک ہو کر بھی وہ یہی خیال کرتا رہے گا کہ اگر میں فلاں سے معاملہ کروں تو اسے ٹھوکر نہ لگ جائے۔شاید فلاں سے تعلق رکھنے کا اچھا نتیجہ پیدا نہ ہو۔یہ وہی میلان ہے جو کفر کی حالت میں بدظنی کی شکل میں تھا۔مگر ایمان کی حالت میں احتیاط کی صورت میں آگیا۔چیز وہی ہے صرف اس کا نام بدل جاتا ہے۔تو اول تو انسانی اعمال کے دائرے اتنے وسیع ہیں کہ یہ کہہ دینا کہ ترقی کے راستے محدود ہیں صحیح نہیں۔اور اگر دائرے وسیع نہ ہوں تب بھی انسانی طبیعت کا میلان مٹ نہیں سکتا۔مثلاً ابھی میں نے بدظنی کی مثال دی ہے یہ بدظنی نیکی کی حالت میں تردد کی ایک شکل ہے۔تردد یہی ہوتا ہے کہ جب انسان کے سامنے کوئی چیز