خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 93

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء گھبراہٹ محسوس ہوئی لیکن اپنی جان کیلئے نہیں بلکہ رسول کریم صلی ٹیم کی جان کیلئے ۔ آپ نے سوچا کہ دشمن سر پر ہے، بظاہر اب پکڑے جانے میں کسی قسم کے شبہ کی گنجائش نہیں ہو سکتی ، غار کا منہ کھلا ہے اور ہم بالکل سامنے ہیں۔ لیکن رسول کریم صلی ایلم جانتے تھے کہ یہ لوگ خدا تعالیٰ کے تصرف کے ماتحت ہیں۔ اس لئے آپ نے کہا۔ لا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا - چونکہ رسول کریم صلی السلام کی نظر حضرت ابو بکر نہ آتی رض سے بہت ، زیادہ دُور رس اور تیز تھی ، اس لئے وہ ان باتوں کو بھی دیکھ رہے تھے جو حضرت ابوبکر کو نظرن تھیں۔ یوں حضرت ابو بکر کی نظر بھی بہت تیز تھی۔ ایک دفعہ رسول کریم صلی الی تم نے ایک خطبہ بیان کیا کہ اب مسلمانوں کیلئے فتوحات کا زمانہ قریب آگیا ہے۔ یہ سن کر آپ رونے لگ گئے ۔ یہ دیکھ کر کسی نے کہا کہ دیکھو بڑھے کی مت ماری گئی ۔ رسول کریم صلی سیستم فتوحات کی بشارت دیتے ہیں اور یہ رو رہا ہے لیکن آپ نے بتایا کہ جب امت کو فتح حاصل ہو جائے تو نبی کا کام ختم ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اسے اپنے پاس بلا لیتا ہے۔ تم لوگ فتح پر خوش ہو لیکن مجھے آنحضرت سلیھا السلام کی صحبت میں خوشی ہوتی ہے سے ۔ اور آپ کا یہ قیافہ صحیح نکلا کیونکہ اس کے کچھ عرصہ بعد ہی رسول کریم صلی ا آپ ستم وفات پاگئے ۔ حضرت ابوبکر نے جو کچھ بیان کیا یہ سنت اللہ ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس بھی ایک شخص نے بیان کیا کہ یہ بات بہت گھبراہٹ کی ہے کہ احمدیت کی فتح جلد جلد نہیں ہوتی۔ اور بعض لوگوں نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملا دی لیکن آپ کے چہرہ پر افسردگی کے آثار ظاہر ہو گئے۔ اور فرمایا۔ جب فتح آ جاتی ہے تو پھر نبی کی ضرورت نہیں رہتی ۔ ابھی جماعت کی تربیت کا کام باقی ہے جب یہ ختم ہو جائے گا تو اللہ تعالیٰ فتوحات کے دروازے بھی کھول دے گا۔ تو حضرت ابوبکر کی نگاہ بیشک بہت صحیح تھی ، اس نے وہ کچھ دیکھا جو اور نہ دیکھ سکتے تھے۔ مگر رسول کریم صلی السلام کی نظر سی تیزی اس میں بھی نہ تھی اس لئے غار ثور میں آپ کو گھبراہٹ کا ہونا لازمی تھا۔ غرض دنیا کے ظاہری حالات حقیقت نہیں ہوتے حتی کہ بعض فلسفی تو انہیں کوئی قیمت ہی نہیں دیتے۔ گو یہ غلط عقیدہ ہی ہے لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو ایک حد تک صحیح بھی ہے۔ ظاہر کی سب کیفیتیں قابلِ اعتبار نہیں ہوتیں ۔ اسی طرح ساری دماغی کیفیتیں بھی صحیح نہیں ہوتیں۔ دونوں مل کر صحیح ہوتی ہیں۔ اور اس صحیح چیز کا مقام کسی کو معلوم نہیں ہوتا۔ سوائے ان لوگوں کے جو اللہ تعالیٰ سے خبر پاتے ہیں۔ یہ مختلف نظروں کی جنگ کئی بار دنیا میں 91