خطبات محمود (جلد 14) — Page 89
خطبات محمود 11 اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لئے فتح مقدر ہو چکی ہے (فرموده ۱۴۔ اپریل ۱۹۳۳ء) سال ۱۹۳۳ء تشهد ، تعو ذاور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔ فلسفیوں میں اس بات پر اختلاف ہے کہ آیا وہ چیزیں جو دنیا میں ہمیں نظر آتی ہیں خواہ وہ دیکھی جانے والی یا چھوٹی جانے والی ہنی جانے والی یا سونگھی جانے والی چیزوں میں سے ہیں، ان کا وجود اصلی ہے یا شکی؟ اور اس خیال پر اس قدر بخشیں ہوئیں ہیں کہ بعض لوگ تو حقائق اشیاء کے گلی طور پر منکر ہو گئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دنیا میں کوئی چیز نہیں۔ اگر ہے تو محض انسانی احساس وگر نہ جو کچھ ہے وہ سب و ہم ہی وہم ہے۔ پرانے زمانہ میں ان لوگوں کو سو فسطائی اور ان کے عقیدہ کو سفسط کہتے تھے۔ اور ان کے متعلق ایک قصہ مشہور ہے کہ ہندوستان کے بادشاہوں میں سے ایک کے پاس اسی عقیدہ کا ایک آدمی آیا۔ اس کا یہی دعوی تھا کہ ہم جو کچھ دیکھتے ہیں یہ سب وہم ہے۔ مختلف لوگوں نے اس سے گفتگو کی مگر اس کا جواب دینے سے عاجز رہے۔ آخر بادشاہ کو ایک تدبیر سوجھی اور اس نے کہا اچھا میں اسے سمجھاتا ہوں ۔ اس نے اسے ایک جگہ کھڑا کر کے ایک مست ہاتھی لانے کا حکم دیا۔ اور خود ارد گرد چھتوں پر محفوظ جگہ بیٹھ گئے اور ایک دیوار کے ساتھ ایک سیڑھی بھی لگا دی۔ جب ہاتھی نے اس پر حملہ کیا تو وہ بھاگ کر سیڑھی پر چڑھنے لگا۔ اس پر بادشاہ نے یہ سمجھ کر کہ میں اب اسے قائل کرلوں گا اسے کہا کہ بھاگتے کیوں اس پر یہ کر یں ہو، ہاتھی وغیرہ کچھ نہیں محض وہم ہے۔ وہ بھی اپنے علم کا پکا تھا۔ کہنے لگا بادشاہ سلامت بھاگ کون رہا ہے، یہ 87