خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 87

خطبات محمود 11 اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لئے فتح مقدر ہو چکی ہے (فرموده ۱۴ - اپریل ۱۹۳۳ء) سال ۱۹۴۳ء تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- فلسفیوں میں اس بات پر اختلاف ہے کہ آیا وہ چیزیں جو دنیا میں ہمیں نظر آتی ہیں خواہ وہ دیکھی جانے والی یا چھوٹی جانے والی سُنی جانے والی یا سو لکھی جانے والی چیزوں میں سے ہیں، ان کا وجود اصلی ہے یا شکی؟ اور اس خیال پر اس قدر بحثیں ہوئیں ہیں کہ بعض لوگ تو حقائق اشیاء کے گلی طور پر منکر ہو گئے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ دنیا میں کوئی چیز نہیں۔اگر ہے تو محض انسانی احساس وگرنہ جو کچھ ہے وہ سب وہم ہی وہم ہے۔پرانے زمانہ میں ان لوگوں کو سوفسطائی اور ان کے عقیدہ کو سفسط کہتے تھے۔اور ان کے متعلق ایک قصہ مشہور ہے کہ ہندوستان کے بادشاہوں میں سے ایک کے پاس اس عقیدہ کا ایک آدمی آیا۔اس کا یہی دعوی تھا کہ ہم جو کچھ دیکھتے ہیں یہ سب وہم ہے۔مختلف لوگوں نے اس سے ے گفتگو کی مگر اس کا جواب دینے سے عاجز رہے۔آخر بادشاہ کو ایک تدبیر سو جبھی اور اس نے کہا اچھا میں اسے سمجھاتا ہوں۔اس نے اسے ایک جگہ کھڑا کر کے ایک مست ہاتھی لانے کا حکم دیا۔اور خود ارد گرد چھتوں پر محفوظ جگہ بیٹھ گئے اور ایک دیوار کے ساتھ ایک سیڑھی بھی لگادی۔جب ہاتھی نے اس پر حملہ کیا تو وہ بھاگ کر سیڑھی پر چڑھنے لگا۔اس پر بادشاہ نے یہ سمجھ کر کہ میں اب اسے قائل کرلوں گا اسے کہا کہ بھاگتے کیوں ہو، ہاتھی وغیرہ کچھ نہیں محض وہم ہے۔وہ بھی اپنے علم کا پکا تھا۔کہنے لگا بادشاہ سلامت بھاگ کون رہا ہے یہ