خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 87

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء خدا کیلئے فتح ہوئی ، شیطان اُس وقت خوش ہو رہا ہوگا اور کہے گا کہ میں نے اب بھی انہیں اپنے قبضہ میں رکھا۔ پس خدا کے سپاہی بنتے ہوئے شیطان کے سپاہی مت بنو۔ اور اخلاقی نرمی اور محبت سے قلوب فتح کرنے کی کوشش کرو۔ یہ مت خیال کرو کہ نرمی سے کچھ نہیں بنتا اور یہ کہ تم اپنی تدابیر سے دنیا پر غالب آ سکو گے۔ اگر تم اپنی کوششوں پر انحصار رکھتے ہو تو تم مومن نہیں اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور اس کی تائید پر بھرو سے رکھو۔ ہمیں خدا تعالیٰ نے نشان کے طور پر دنیا کے سامنے رکھا ہے۔ مچھلی کو آٹا نہیں پکڑا کرتا بلکہ مچھلی ماہی گیر پکڑا کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم آتا ہیں ، طعمہ ہیں جو اس لئے پھینکے گئے تا دنیا اسے کھائے۔ لیکن چونکہ خدا کا کانٹا ہمارے پیچھے ہے اس لئے جب بھی ہمیں کوئی کھانے کیلئے آئے گا خود شکار ہو کر رہ جائے گا۔ پس بے شک ہم ایک طعمہ ہیں اور اس لئے پھینکے گئے ہیں کہ دنیا ہمیں کھائے مگر ہمیں کھا کوئی نہیں سکتا، کیونکہ خدا کا ہاتھ ہمارے پیچھے ہے اور وہ ہمیں کھانے والے کا شکار کرتا ہے۔ پھر اس کامیابی میں بھی ہمارا دخل نہیں۔ جیسے اگر کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ آٹا مچھلی کو پکڑتا ہے تو وہ پاگل ہے۔ مچھلی کو کانٹا پکڑتا ہے جو شکاری کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ پس یہ مت خیال کرو کہ تم نے کوئی کام کرنا ہے۔ تم کو خدا نے دنیا کے سامنے پھینک دیا ہے تا کہ وہ لوگ آئیں اور تم پر منہ ماریں۔ تمہیں ایک طعمہ کی شکل دی گئی ہے تا کہ لوگوں کے دلوں میں لالچ پیدا ہو اور وہ تمہاری طرف ہاتھ بڑھائیں تا خدا کا ہاتھ یں کھینچ لے۔ پس اپنی کمزوری کو نہ دیکھو کہ یہ کمزوری دشمن کو شکار کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ جس طرح مچھلی والاجتنی زیادہ آٹے میں خوشبوئیں ملاتا ہے جو مچھلی کو پسند ہوں تا کہ وہ انہیں سونگھے اور کانٹے کی طرف آئے تا کہ پکڑی جائے۔ اسی طرح تم بھی اپنے اندر جس قدر کمزوریاں دیکھو، یہ سمجھ لو کہ خدا کا جال اور زیادہ وسیع ہورہا ہے تا کہ تمہاری کمزوریوں کو دیکھ کر دشمن کو لالچ اور حرص پیدا ہو اور وہ تمہارے قریب آجائے ۔ تا کہ پکڑا جائے۔ پس آج تمہاری ہر کمزوری دشمن کو شکست دینے کا ایک ذریعہ ہے اور ہر ایک چیز جو بظاہر تمہارے ضعف کی علامت سمجھی جاتی ہے اس امر کا ثبوت ہے کہ فتح کرنے والا آ گیا اور تمہارے دل متى نصر اللہ کہنے کیلئے تیار ہو گئے۔ پس اپنے نفوس میں تبدیلی پیدا کرو، قلوب کو پاک کرو، زبانوں کو شائستہ اور اپنے آپ کو اس امر کا عادی بناؤ کہ خدا کیلئے دکھ اور تکلیفوں کو برداشت کر سکو۔ تب تم خدا کا ہتھیار ہو جاؤ گے اور پھر خدا ساری دنیا کو کھینچ کر تمہاری طرف 85