خطبات محمود (جلد 14) — Page 78
خطبات محمود فاتحین کی زبان ہے۔۷۸ ۱۹۳۳ء اسی طرح کسی زمانہ میں داڑھیاں بڑھانا تہذیب کا نشان قرار دیا جاتا ہے۔اور اس زمانہ میں داڑھیاں منڈوانا تہذیب کا نشان سمجھا جاتا ہے۔اس لئے نہیں کہ داڑھی کے ساتھ تہذیب کا کوئی خاص تعلق ہے۔داڑھی اور تہذیب کا کوئی بھی جوڑ نہیں۔بلکہ اُس وقت اس لئے داڑھیاں بڑھائی جاتی تھیں کہ فاتح قوم داڑھیاں رکھتی۔اور اب اس لئے منڈائی جاتی ہیں کہ فاتح قوم داڑھیاں منڈاتی ہے اور اپنے اپنے اوقات میں لوگ اس کی تائید میں دلائل بھی لے آتے ہیں۔پھر کسی زمانہ میں طب کا سارا زور اس امر پر تھا کہ خوب نمک مرچ ڈال کر اور بھون بُھون کر گوشت کو استعمال کرنا چاہیے۔یہ نہایت ہی مقوی اور خون صالح پیدا کرنے والی غذا ہے۔اور اُس وقت طب اپنے مخفی خزانے نکال نکال کر اس کی تائید میں پیش کر رہی تھی۔مگر آج طب کا سارا زور اس امر پر ہے کہ گوشت اُبلا ہوا کھانا چاہیئے۔مرچیں کم ڈالنی چاہئیں، نمک اور گرم مصالحہ زیادہ نہیں ڈالنا چاہیے۔طب بے شک ایک علم ہے مگر میرے نزدیک اُس وقت طب کا علم بھی فاتح قوم سے مغلوب تھا اور وہ اُسی کی تائید کر رہا تھا۔مگر آج وہی طب کا علم اپنے رنگ میں اس وقت کی فاتح قوم کی تائید کر رہا ہے۔یہ مثالیں اس امر کا ثبوت ہیں کہ علوم خواہ کتنے ہی وسیع کیوں نہ ہوں اور ان کی بنیاد خواہ تبحر پر ہی کیوں نہ ہو ، فتح کے سامنے مجھک جاتے ہیں۔پس فتح ایک نہایت ہی دلکش لفظ ہے اور انسانی ذہن نہایت جلدی اس کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔لیکن اگر کوئی شخص غور کرے تو اُسے معلوم ہو گا کہ ہر فتح فتح نہیں کہلا سکتی۔بلکہ کئی فتوحات ایسی ہوتی ہیں کہ جب وقوع میں آتی ہیں تو لوگ اس کی عظمت کرتے اور اپنا سر اُن کے آگے جھکا دیتے ہیں۔مگر بعد میں آنے والے لوگ جبکہ ہیبت ان کے دلوں سے ہٹ جاتی ہے، جبکہ دماغ حکومت کے جابرانہ دباؤ سے آزاد ہو جاتے ہیں، اس فتح کو نہایت ہی نفرت اور حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔اور ہر شخص کہتا ہے یہ ظلم ہوا، دنیا کی ترقی میں روک واقع ہو گئی۔وہ فتح تھی خونریزی کی، وہ فتح تھی ظلم کی، وہ فتح تھی جبر و تعدی کی۔مگر شکست تھی علوم وہ کی، شکست تھی حقیقی تہذیب کی۔پس اگرچہ ایک ساعت کیلئے اور تھوڑے سے وقت کیلے فتح نہایت ہی مقبول اور محبوب نظر آتی ہے لیکن اس کے بعد اُس کی شناعت اور بُرائی لوگوں کی نظر میں نمایاں ہو جاتی ہے۔اور وہ اس کے نقصانوں کو خود دیکھ لیتے ہیں۔مومن کا کام