خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 77

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء نیکی اور تقویٰ کے ذریعہ فتح حاصل کرو (فرموده ۳۱ - مارچ ۱۹۳۳ء) تشہد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- فتح کا لفظ ایک ایسا خوش کن لفظ ہے کہ انسانی طبیعت بے اختیار اس کی طرف مائل و جاتی ہے۔فتوحات کے زمانہ میں فاتح کے عیب بھی خوبیاں بن جاتی ہیں اور اس کے نقص بھی کمال نظر آتے ہیں۔چنانچہ دیکھ لو۔ہمارے ہی ملک میں کچھ عرصہ پہلے جب مسلمان فاتح اور حکمران تھے۔ہندو اسلامی لباس فیشن کے طور پر اختیار کرتے تھے۔وہ لمبے لمبے مجھے جنہیں آج مسلمان بھی ترک کر بیٹھے ہیں اُس زمانہ میں ہندو فخر سے پہنتے اور فارسی میں شعر کہنا ایک ہندو کی عزت افزائی کا موجب سمجھا جاتا۔جس طرح آج مسز نائیڈو اور ٹیگور اپنی قوم میں معزز قرار دیئے جاتے ہیں، اس لئے کہ انہوں نے مغربی علم ادب کا تتبع کیا ہے۔ٹیگور مغربی نقطۂ نگاہ پر اپنے خیالات کے اظہار کیلئے اور مسز نائیڈو انگریزی اظہار خیال کیلئے۔اسی طرح اُس زمانہ میں مرزا قتیل کی بڑی عزت تھی۔کیونکہ وہ فارسی میں اچھے شعر کہتے تھے۔آج فارسی کا پڑھنا معیوب ہے۔فارسی اور عربی دان ملا اور ملنٹے کہلاتے ہیں۔اور عالم صرف وہی شخص سمجھا جاتا ہے جو انگریزی پڑھا ہوا ہو۔مگر آج سے دو اڑھائی سو سال پہلے علم کے معنے یہ تھے کہ لوگ عربی یا فارسی پڑھے ہوئے ہوں۔اس کے یہ معنی نہیں کہ اِس زمانہ میں انگریزی کو کوئی خصوصیت حاصل ہے۔یا پہلے زمانہ میں عربی اور فارسی کو کوئی خصوصیت حاصل تھی بلکہ صرف یہ نہیں کہ اُس زمانہ میں فارسی اور عربی فاتحین کی زبان تھی اور اس زمانہ میں انگریزی