خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 70

خطبات محمود سال ۱۹۳۴۳ تو عقاب کے قبضہ میں ہے تو وہ دیوانگی کی حالت میں پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئی اور اپنے بچے کو گود لے لیا۔جب بچہ اُس نے اُٹھالیا، اُس کی عقل قائم ہوئی اور جوش جاتا رہا۔تو اُس نے شور مچانا شروع کردیا کہ مجھے کسی طرح اُتارا جائے۔آخر لوگوں نے بڑی مشکلوں سے اسے۔أتارا نہیں پس یاد رکھو جب عشق پیدا ہو جاتا ہے تو تکالیف نظر نہیں آتیں۔میں تو جب بھی ، گالیاں پڑھتا ہوں، میرے دل میں گالیاں دینے والے کے خلاف کچھ بھی احساس پیدا ہوتا۔تب میں اپنے نفس سے سوال کرتا ہوں کہ کیا تیرے اندر غیرت کی کمی ہے؟ اور میرا نفس مجھے یہ جواب دیتا ہے کہ میرے اندر غیرت کی کمی نہیں بلکہ محبت کی زیادتی مجھے مجبور کرتی ہے کہ میں ان پر رحم کروں۔دیکھو اللہ تعالٰی اس مخالفت کے ذریعہ یہ بتانا چاہتا ہے کہ دنیا میں گند موجود ہے۔اگر یہ مخالفت نہ ہوتی تو لوگ تسلی اور اطمینان کی حالت میں بیٹھ جاتے اور خیال کرتے کہ اب دنیا سے گند مٹ گیا۔لیکن خدا تعالٰی نے اس ذریعہ سے بتادیا ہے کہ مرض موجود ہے اس کے علاج کی فکر کرو۔پس یہ مخالفت اللہ تعالی کی طرف سے ایک نعمت ہے۔اور شکر کرو کہ اللہ تعالٰی نے موت سے پہلے تمہیں بیدار کردیا۔اگر تم اسی حالت میں ہے مرجاتے تو خدا کو کیا جواب دے سکتے۔خدا تعالیٰ نے اب تمہیں بتا دیا ہے کہ شیطان مرا نہیں۔پس اُسے مارنے کیلئے تیار ہو جاؤ۔ہمارے دشمن لوگ نہیں بلکہ شیطان ہے۔یہ تو جتنی زیادہ گالیاں دیتے ہیں اُتنا ہی زیادہ ہمیں ان پر رحم آتا ہے۔یہ طریق ہے جو ایک سچے مومن کو اختیار کرنا چاہیئے۔اور اسی کو اختیار کرکے کامیابی اور برکت حاصل ہو سکتی ہے۔یہ مت خیال کہ دنیا تمہاری مخالف ہو گئی ہے۔یہی گالیاں ہیں جو کھاو کا کام دیں گی۔اور انہیں گالیوں کی وجہ سے انہیں کے بھائی بندوں میں سے لوگ ہمارے سلسلہ میں داخل ہوں گے۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک بڑے ادیب جو محاورات اردو کی کتاب بھی چالیس جلدوں میں شائع کرنے کا ارادہ رکھتے تھے اور جس کا کچھ حصہ نواب صاحب رامپور نے شائع بھی کرایا تھا، قادیان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کرنے آئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُن سے دریافت کیا کہ آپ کو سلسلہ کی تبلیغ کس نے کی؟ انہوں نے کہا مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے۔بچپن کی وجہ سے مجھے اس جواب پر بڑی حیرت ہوئی۔اور جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پوچھا کہ کس طرح؟ تو انہوں