خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 70

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء ایک بزرگ کے متعلق مشہور ہے وہ مکہ میں مقید تھے ۔ گرمی کے دن تھے انہیں سخت پیاس لگی انہوں نے دعا کی کہ الہی ! ہماری دعوت کر، تکلیف بہت زیادہ ہے۔ اللہ تعالی نے ان کی دعا سن لی بارش ہوئی جس کے ساتھ خوب اولے بر سے۔ انہوں نے اولوں کو اکٹھا کیا اور پھر انہیں دوستوں میں تقسیم کر دیا۔ بعضوں لمسة نے پوچھا کہ آپ خود کیوں نہیں کھاتے۔ انہوں نے کہا بس یہی خواہش ہے کہ اس خوشی میں کہ اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول کر لی تمام برف دوستوں میں تقسیم کر دوں ۔ تو اس وقت بھی اللہ تعالیٰ نے یہ سامان پیدا کئے ہیں۔ بجائے اس کے کہ ان گالیوں کو بند کروانے کی کوشش کرو تم اس لٹریچر کو جمع کر لو۔ یہ لٹریچر بذات خود پھر اس بات کا ثبوت ہوگا کہ صداقت کس طرف ہے ایک ایک لفظ ، ایک ایک گالی جسے اب تم گورنمنٹ کے پاس لے جانا چاہتے ہو تم اسے خدا تعالیٰ کی نعمت سمجھ کر اپنی فائلوں میں محفوظ کرلو۔ یہی وقت ہے جس کے ضائع ہو جانے کا ہمیں افسوس تھا۔ خدا تعالیٰ نے یہ موقع پیدا کر دیا ہے اب اس سے فائدہ اٹھاؤ۔ آج دشمن خوش ہے اور وہ گالیاں دے کر خیال کرتا ہے کہ ہم احمدیت کو مٹا دیں گے۔ لیکن میں سچ کہتا ہوں کہ اگر مولوی ظفر علی کی اولا د باقی رہی تو آج سے چوتھی پشت کے سامنے ”زمیندار“ کے یہ گالیوں سے بھرے ہوئے فائل رکھنے پر وہ اپنے دادا کو گالیاں دینے نہ لگ گئے تو جو جی میں آئے کہنا۔ یہ گالیاں گالیاں نہیں بلکہ دعائیں ہیں جو تمہیں مل رہی ہیں ۔ حضرت خلیفہ مسیح الاول فرمایا کرتے تھے۔ میرے ایک بزرگ تھے انہوں نے ایک کام شروع کیا چند دنوں کے بعد فرمانے لگے۔ معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو یہ کام پسند نہیں آیا۔ آپ نے پوچھا کیوں؟ انہوں نے فرمایا اس لئے کہ کسی نے اس کام کو بُرا نہیں کہا۔ پھر کہنے لگے میرا تجربہ ہے کہ جو کام اللہ تعالیٰ کو پسند ہوا سے عام لوگ ضرور نا پسند کرتے ہیں۔ چونکہ اب کسی نے کچھ کہا نہیں ۔ اس لئے مجھے فکر ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ کام نا پسند نہ ہو۔ چار پانچ دن کے بعد پھر جو ملے تو بڑے خوش تھے ۔ اور فرمانے لگے اللہ تعالیٰ نے وہ کام قبول کر لیا ۔ کیونکہ مجھے ایک لمبا خط اس کے متعلق گالیوں کا ملا ہے۔ پس تم بھی اپنے نفس کو ٹولو ۔ اور اس سے پوچھو اے نفس ! کیا تیرے کسی گوشہ میں قرآن کریم کی بے حرمتی ہے ۔ کیا تیرے کسی گوشہ میں محمدصلی السلام کی دشمنی ہے، اے نفس ! کیا تیرے اندر بنی نوع انسان کی دشمنی ہے اگر تمہارا نفس ان تمام سوالوں کے جواب میں کہے کہ نہیں نہیں ۔ میں سب کچھ دین کیلئے قربان کرنے کو تیار ہوں محمد صلی ا السلام سے دشمنی کیسی ، آپ کے ادنی اشارے پر جان 68