خطبات محمود (جلد 14) — Page 68
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء منکرین دکھاتے چلے آئے ہیں ۔ ان کا فرض ہے کہ وہ ابراہیم کے منکروں کی طرح ہمارے لئے آگ جلائیں اور اُس میں ڈال دیں ۔ اُن کا فرض ہے کہ وہ موسیٰ" کے منکروں کی طرح ہمارے پلوٹھوں کو ہلاک کر دیں۔ ان کا فرض ہے کہ وہ عیسی کے منکروں کی طرح ہمیں صلیب پر لٹکائیں۔ پھر اُن کا فرض ہے کہ وہ رسول کریم صلی السلام کے منکروں کی طرح ہمیں اپنے وطن سے بے وطن کر دیں۔ ہمیں موت کے گھاٹ اُتارنے کی کوشش کریں۔ اور ہر رنگ میں تکلیف اور اذیت پہنچا کر خیال کریں کہ وہ نیکی کا کام کر رہے ہیں۔ اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو ہر ایک مخالف کا حق ہوگا کہ ہم سے پوچھے اگر مرزا صاحب نبی تھے تو کیا ان کے منکروں نے وہ کام بھی کئے جو دوسرے انبیاء کے منکر کرتے چلے آئے ہیں۔ کیا تم اُس وقت یہ جواب دو گے کہ ہم نے انہیں نصیحت کر کے روک رکھا تھا۔ اور اگر یہی جواب دو گے تو کون اسے تسلیم کرے گا۔ پس جو اُن کا کام ہے وہ انہیں کرنے دو اور جتنا شور وہ مچانا چاہتے ہیں ، انہیں مچانے دو۔ اور یا درکھو کہ وہ جتنی زیادہ ہماری مخالفت کرتے ہیں، قرآن مجید کی اس آیت کی اتنی ہی زیادہ صداقت ظاہر کرتے ہیں کہ یا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِعُونَ ، لوگوں کی حالت پر افسوس ہے کہ جب بھی ان کے پاس ہمارا کوئی رسول آیا انہوں نے اس سے ہنسی اور مذاق کیا۔ پس وہ جس قدر ہم پر ہنسی اُڑاتے ہیں جتنی زیادہ ہماری مخالفت کرتے ہیں، اسی قدر وہ ہماری تائید اور صداقت میں ثبوت مہیا کرتے ہیں۔ اور عقلمند کیلئے یہی مخالفت بعض دفعہ ماننے کا موجب ہو جاتی ہے۔ رسول کریم ملی ایلام کے زمانہ کا ہی واقعہ ہے۔ جب آپ نے مختلف بادشاہوں کو تبلیغی چٹھیاں لکھیں تو اس وقت ہر قل نے کہا کہ عرب کا کوئی آدمی بلو اؤ جس سے میں اس نبی کے حالات دریافت کروں ۔ ابو سفیان حاضر ہوا تو اُس نے پوچھا اس کی قوم اسے مانتی ہے یا نہیں؟ ابوسفیان نے کہا نہیں ۔ نہ صرف مانتی نہیں بلکہ مخالفت کرتی ہے۔ ہر قل نے کہا یہی انبیاء کے مخالفین کیا کرتے ہیں 2 ۔ اُس وقت ہر قل نے یہ نہیں کہا کہ چلو جب خُود اُس کی قوم اسے نہیں مانتی تو میں کیوں مانوں ۔ بلکہ اس نے کہا کہ اگر قوم نہیں مانتی تو یہ اُس کی صداقت کا ثبوت ہے کیونکہ ہر نبی کی قوم میں اُس کی مخالفت ہوا کرتی ہے۔ پھر علاوہ اس کے ان گالیوں کا ایک اور فائدہ بھی ہے جس سال میں خلیفہ ہوا اُسی سال میں نے اپنی جماعت کے علماء کو جمع کیا تھا اور میں نے انہیں کہا کہ ہم سب سے ایک 66