خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 67

خطبات محمود 46 سخت کو تاہی ہوئی ہے۔اور میں نہیں جانتا کہ اس کو تاہی کی ہمیں کیا سزا ملے گی۔انہوں نے پوچھا وہ کیا؟ میں نے بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف مخالفوں کی طرف سے نہایت ہی گندہ لٹریچر شائع کیا جاتا رہا ہے اور اب بھی شائع ہوتا رہتا ہے مگر ہمارے پاس وہ لٹریچر محفوظ نہیں۔اگر کل اعتراض کیا گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتابوں میں۔مند سے بعض سخت الفاظ لکھے ہیں اور ہمارے پاس مخالفوں کی گالیاں نہ ہوئیں تو ہم کس سکیں گے کہ یہ گالیاں نہیں بلکہ مشفقانہ زجر ہے اور میں نے صیغہ وے وہ تالیف و تصنیف کی بنیاد ہی اس امر پر رکھی تھی اور میں نے اس کا فرض مقرر کیا تھا کہ کوشش سے ایسا لٹریچر جمع کرے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بُرا بھلا کہا گیا ہو۔کچھ لڑیچر اُس وقت جمع بھی کیا گیا تھا مگر ابھی سو میں سے ایک حصہ بھی ہم اکٹھا نہیں کر سکے۔اس کا نتیجہ دیکھ لو آج مخالف کس دیدہ دلیری سے کہہ رہے ہیں کہ مرزا صاحب گالیاں دیا کرتے تھے۔ان کے سامنے وہ گالیاں نہیں جو مخالفوں نے دیں۔وہ سخت الفاظ نہیں جن سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مخاطب کیا گیا۔وہ گندی تحریرات موجود نہیں جنہیں ایک شریف انسان سننے کی بھی تاب نہیں رکھ سکتا۔پس اس نقص کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مشفقانہ زجر اور اظہارِ حقیقت کو گالی قرار دیا جاتا ہے۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سینکڑوں خطوط ایسے آیا کرتے تھے جن میں گالی گلوچ کے سوا اور کچھ و تا۔بعض خطوط میں نے بھی پڑھے ہیں۔میں مثال کے طور پر بیان کر دیتا ہوں۔بعض میں لکھا ہوتا تھا کہ میں فلاں تاریخ کو آنے والا ہوں، اپنی بیوی اور بیٹی کو تیار رکھنا۔میں انہیں ساتھ لے آؤں گا۔اس قسم کی تحریریں اگر ہمارے پاس موجود ہوتیں تو ہم مخالفوں کے سامنے رکھتے اور بتاتے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو کچھ فرمایا وہ اظہارِ حقیقت تھا۔ایک مخالف بیشک کہہ سکتا ہے کہ یہ اظہارِ حقیقت نہیں مگر کم از کم وہ اس امر کو تسلیم کریں گے کہ اس قسم کے الفاظ اظہار واقعہ کے طور پر کہے جاسکتے ہیں۔انسان بے دین بھی ہو سکتے ہیں۔کج فہم بھی ہو سکتے ہیں، بے حیا بھی ہو سکتے ہیں مگر یہ کہنا کہ اپنی بیوی کو تیار رکھنا میں اسے فلاں تاریخ لینے کیلئے آؤں گا۔اسے کسی پہلو کے لحاظ سے بھی اظہارِ حقیقت نہیں کہا جاسکتا۔پس آج گالیاں سن کر بجائے اِس کے کہ تم گورنمنٹ سے یہ کہو کہ وہ انہیں روکے تم یہ سمجھو کہ خدا نے پھر تمہارے لئے گالیوں کے جمع کرنے کا ایک موقع پیدا کر دیا ہے۔