خطبات محمود (جلد 14) — Page 67
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء ہیں ، اگر تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے تو اُسے نہ پڑھو۔ مگر یہ کیا کہ آپ ہی ایسا اخبار خرید و اور جب اُسے پڑھو تو غصے میں آجاؤ۔ اُس کے نزدیک تو دین کی خدمت ہی یہی ہے کہ وہ تمہیں گالیاں دیتا رہے۔ اور جب وہ اسے خدمت دین سمجھتا ہے تو اس کا حق ہے کہ گالیاں دے ۔ غرض اُس کا کام ہے کہ وہ پتھر مارے اور تمہارا کام ہے کہ تم پتھر کھاؤ۔ اس کا دعوی ہے کہ وہ ایک نبی کا منکر ہے اور ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی کے ماننے والے ہیں۔ پس جو نبی کے منکروں کا کام ہے وہ منکر کرے اور جو نبی کے ماننے والوں کا نمونہ ہوتا ہے، ضروری ہے کہ ہم دکھائیں۔ نبی کے منکروں کا کیا کام ہوتا ہے؟ یہی کہ وہ گالیاں دیتے ہیں، مارتے اور پیٹتے ہیں۔ پس اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو اپنی حیثیت کے مطابق کرتے ہیں اور اگر تم انہیں گالیوں سے باز رکھنا چاہتے ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم چاہتے ہو نبی کے منکر وہ کام کریں جو نبی کے ماننے والے کیا کرتے ہیں۔ حالانکہ ایسا نہیں ہو سکتا ۔ پس اگر وہ نبی کے منکر ہیں اور یقینا منکر ہیں تو ان کا کام ہے کہ وہ نبی کے منکروں کا طریق عمل اختیار کریں۔ اگر تم کسی ایک نبی کے منکر کی مثال ہی میرے سامنے پیش کر دو کہ وہ بڑا شریف، بڑا نیک اور بڑا پارسا تھا، تو میں مان لوں گا کہ ان منکروں کو بھی شریف بن کر رہنا چاہئیے ۔ اور تب آپ لوگوں کا حق ہے کہ ان سے شرافت اور انسانیت کے نام پر اپیل کریں لیکن اگر سارے نبیوں کے مخالفوں کا ہمیں یہی دستور دکھائی دیتا ہو کہ وہ گالیاں دیتے آئے ، انبیاء کے ماننے والوں کو ستاتے اور دُکھ دیتے آئے ، انہیں مارتے اور پیٹتے رہے، ان پر پتھر برساتے رہے، اور بالمقابل ہمیں یہ نظر آتا ہو کہ نبی کے ماننے والوں نے ہمیشہ گالیاں کھائیں، تکالیف برداشت کیں ، دُکھ سہے، رنج و غم برداشت کئے تو پھر اب بھی ہمارا کام ہے کہ ہم گالیاں کھائیں اور ان کا کام ہے کہ وہ گالیاں دیں۔ غالب اخلاق کے لحاظ سے تو کہا جاتا ہے اچھا نہیں تھا لیکن اس کے بعض شعر سچائی سے پر ہیں کہتا ہے۔ وہ اپنی خُو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں بدلیں سبک سر ہو کے کیوں پوچھیں کہ ہم سے سر گراں کیوں ہو جب انہوں نے اپنی ایک خُو بنائی ہے اور جب وہ اپنی خو نہ چھوڑنے کیلئے تیار نہیں تو ہم اور وہ اپنی تیار ہم ۔ = اپنی وضع کیوں بدلیں ۔ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خدا تعالیٰ کی طرف سے تھے اور یقینا تھے تو پھر آپ کے منکروں کو یقینی طور پر وہی نمونہ دکھانا چاہئیے تھا جو ہمیشہ سے انبیاء کے 65