خطبات محمود (جلد 14) — Page 46
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء عظمت کو شناخت کیا جاتا ہے۔ ان دونوں میں سے کوئی لباس مراد لے لو، یہ دعویٰ بہت عظیم الشان بنتا ہے اور کوئی جھوٹا شخص ایسا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک احمدی کے دماغ میں نقص ہو گیا اُس نے یہ دعوی کیا کہ مجھے الہام ہوتا ہے اور مجھے اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ " ، حضرت عیسی اور محمد صلی لا الہ سلیم کا نام دیتا ہے۔ وہ شخص یہاں آیا تو آپ کے سامنے اس کا ذکر کیا گیا ۔ آپ نے اسے نصیحت کی اور فرمایا دیکھو جب ہے۔ تمہیں الہام ہوتا ہے کہ تو موسیٰ ہے تو کیا حضرت موسیٰ والے معجزے اور نشان بھی دیئے جاتے ہیں۔ جب تمہیں ابراہیم کہا جاتا ہے تو کیا حضرت ابراہیم کی سی تائید اور نصرت بھی حاصل ہوتی ہے اور آئندہ نسلوں کے متعلق انہی برکات کا وعدہ دیا جاتا ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دی گئیں ۔ جب عیسی کہا جاتا ہے تو کیا دعاؤں کی قبولیت کے معجزات بھی دیئے جاتے ہیں جو حضرت عیسیٰ سے وابستہ ہیں۔ اس نے جواب دیا کہ نہیں ملتا تو کچھ نہیں۔ آپ نے فرمایا بس پھر وہ شیطان ہے جو آپ کے ساتھ کھیلتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو وعدے کئے جاتے ہیں ان کے ثبوت بھی ہوتے ہیں لیکن شیطان جھوٹ بولتا اور بندے سے کھیلتا ہے۔ یہ دعوی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کیا کوئی معمولی دعویٰ نہیں ۔ پھر جب کوئی شخص دعوی کرے تو اس کیلئے ثبوت چاہئیں۔ اور یہ ثبوت دو قسم کے ہوتے ہیں ایک مادی اور دوسرا روحانی۔ روحانی ثبوتوں کا مہیا کرنا اللہ تعالیٰ کا کام ہوتا ہے اور مادی ثبوتوں کا مہیا کرنا بندوں کا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق یہ فرما دیا کہ تو ابراہیم ، موسیٰ علیسی ، کرشن ہے۔ اور جب کہ اس نے فرما دیا کہ سب انبیاء کے نام لینے کی ضرورت نہیں۔ تُوجَرِ اللهِ فِي حُلَلِ الْأَنْبِيَاءِ یعنی تو وہ جرنیل ہے جو سب انبیاء کے لباس پہن کر آیا ہے۔ تو اس دعوی کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر بھی ایک ذمہ داری عائد ہوتی تھی اور وہ یہ کہ جب اس نے آپ کو موسیٰ کہا تو اس کی کوئی علامت بھی دیتا۔ اور اُس نے دی، چنانچہ آپ کو موسیٰ قرار دینے کے ساتھ اس نے یہ بھی فرمایا کہ موسیٰ کی طرح عصا بھی تجھے دیا گیا ہے۔ جو دشمن کے بنائے ہوئے سانپوں کو کھا جائے گا۔ جتنے سحر لوگ کریں گے، وہ سب ان کو باطل کر دے گا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو صرف موسیٰ ہی نہیں کہا بلکہ ساتھ یہ بھی فرمایا گا۔ پھر ہی کہ تیرے خلاف تیرے دشمنوں کے منصوبے خاک میں ملا دیئے جائیں گے۔ اسی طرح آپ کو عیسیٰ کہا گیا تو 44