خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 45 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 45

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء حضرت عیسی کو دعاؤں کی قبولیت کا جو معجزہ دیا گیا تھا، وہ بھی آپ کو دیا گیا۔حضرت عیسی بیماروں کیلئے دعا کرتے اور وہ شفایاب ہو جاتے۔اللہ تعالٰی نے آپ کو بھی فرمایا کہ تیری دعائیں قبول کرنے کا ہم نے فیصلہ کرلیا ہے۔اُجِيْبُ كُلَّ دُعَائِكَ إِلَّا فِي شُرَكَائِكَ سے سوائے ان بعض دعاؤں کے جو تو نے اپنے شرکاء کے متعلق کی ہیں باقی تیری دعائیں قبول کی جائیں گی۔گویا آپ سے اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ سے بھی بڑھ کر وعدہ کیا۔وہ تو صرف دعا کے ساتھ بیماروں کو اچھا کرتے تھے لیکن یہاں فرمایا کہ ہم بیماروں، تند رستوں، غریبوں، بے اولادوں غرض کہ سب کے متعلق تیری دعا قبول کریں گے۔اور اس طرح آپ کو صرف حضرت عیسی کا نام ہی نہیں دیا گیا بلکہ ساتھ نشان بھی دیئے گئے۔پھر آپ کو کرشن اور رو در گنو پال بھی کہا گیا اور ساتھ ہی وعدہ فرمایا کہ کرشن کی خوبیاں بھی تجھے عطا کریں گے۔تیری جماعت میں ایسے لوگ داخل کریں گے جو گائے کی طرح نفع رساں اور مسکین طبع ہوں گے۔ایک طرف علوم کا سر چشمہ ان سے پُھوٹے گا دوسری طرف وہ سختی اور تشدد کے مقابلہ میں نرمی اور محبت کا اظہار کریں گے جس طرح گائے دودھ دیتی ہے۔پھر اس کے اندر اللہ تعالٰی نے ایک جذبہ محبت بھی رکھا ہے۔دوسرے جانوروں مثلاً گھوڑے، اونٹ، بھینس وغیرہ پالتو جانوروں میں سے کسی کو دیکھ لو ان میں سے جس کی آنکھ میں سب سے زیادہ محبت اور انکسار پایا جاتا ہے، وہ گائے ہے۔اس کی آنکھ کو دیکھ کر یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے جذبات کو ہم تک پہنچانا چاہتی ہے۔مگر زبان بند ہونے کی وجہ سے مجبور ہے۔اسی سے شاید ہندوؤں کو خیال ہوا کہ گائے ہماری ماں ہے۔جو معنے گائے کی آنکھ میں نظر آتے ہیں وہ اور کسی حیوان کی آنکھ میں دکھائی نہیں دیتے۔اس میں ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے اسے کوئی شناخت ہے اور کچھ بتانا چاہتی ہے۔اس کے دل میں خیالات آتے ہیں مگر چونکہ بولنے کیلئے زبان نہیں۔اس لئے سارا زور آنکھ پر ڈال کر اپنے جذبات کا اظہار کرنا چاہتی ہے۔اس لئے گائے مسکینی کا نشان قرار دیا گیا ہے اور وہ باوجود فائدہ پہنچانے کے مسکینی کا نشان ہے۔سو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالٰی نے بتایا کہ تیری جماعت میں لوگ ہوں گے جو اپنا خون دوسروں کو چوسوائیں گے مگر پھر بھی مسکینی کے ساتھ رہیں گے۔وہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کے جمال کے مظہر ہوں گے۔وہ دنیا کے فائدہ کیلئے اپنا سب کچھ قربان کردیں گے مگر پھر بھی یہی سمجھیں گے کہ ہم نے ابھی تک کچھ نہیں کیا۔پھر آپ کو ابراہیم کہا