خطبات محمود (جلد 14) — Page 41
خطبات محمود اسم سال ۱۹۳۳ء شکست کھائی ہو۔مگر دشمن جھوٹ بولتا ہے اور جھوٹ بول بول کر لوگوں کو ورغلاتا اور انہیں جماعت کے خلاف اکساتا ہے۔تم یاد رکھو جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔قرآن مجید میں آتا ہے جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا تو حق آگیا اور باطل بھاگ گیا۔اور اس میں تعجب کی کون سی بات ہے۔باطل ہمیشہ بھاگا ہی کرتا ہے۔پس بیشک وہ جھوٹ سے کچھ عرصہ تک لوگوں کو ور غلالیں مگر وہ جھوٹ نہیں جو بھاگے نہیں اور وہ بچ نہیں جو پھیلے نہیں۔پس ان دنوں زیادہ جوش سے تبلیغ پر کمربستہ ہو جاؤ۔پرسوں پھر تبلیغ کا دن ہے اور یہ دن خصوصیت سے ہندوؤں میں تبلیغ کیلئے ہے۔بیرونی جماعتیں تو زور شور سے تیاری کر رہی ہیں مگر قادیان میں سستی معلوم ہوتی ہے۔ہر احمدی کا فرض ہے کہ وہ اِس دن تبلیغ کرے۔چاہے تقریر کے ذریعہ اور چاہے تحریر کے ذریعہ۔بہر حال تبلیغ کرنی ہے۔اور جو باہر کی جماعتیں ہیں مثلاً لاہور اور گجرات جہاں کہ آج کل بہت زیادہ مخالفت ہو رہی ہے۔وہ میرے اس خطبہ کو یاد رکھیں اور سمجھ لیں کہ جب تک وہ خدا کے منشاء کے مطابق کام نہیں کریں گی ، کامیاب نہیں ہوں گی۔ہمارے دل میں بیشک ان کی محبت ہے مگر ہماری محبت ان کے کام نہیں آسکتی۔آج خدا چاہتا ہے کہ ہر انسان کو خود مدد دے۔پس خدا کی محبت دل میں پیدا کرو تاکہ خود زمین و آسمان کا خدا تمہاری مدد کرے۔آج سے تیرہ سو سال پہلے جب محمد ال دنیا میں آئے اور خدا نے تلوار کے ذریعہ اسلام کی مدد کی تو دشمن نے اعتراض کیا اور کہا کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا۔تب خدا کی غیرت نے کیا کہ وہ ایک دوسرے زمانہ میں تلوار مسلمانوں سے لے لے اور پھر ادیان باطلہ پر اسلام غالب کر کے ثابت کرے کہ اسلام دلائل کی رو سے غالب ہوا کرتا ہے نہ کہ تلوار کے ذریعہ۔پس تم جاؤ اور دلائل کی تلوار سے مخالفین کو اسلام کے قدموں میں ڈال دو۔اور یاد رکھو کہ آج اگر کوئی شخص اسلام کے نام پر تلوار چلاتا ہے تو وہ اسلام کا ازلی دشمن ہے کیونکہ وہ اس زبردست دلیل صداقت کو باطل کرنا چاہتا ہے جس کے متعلق خدا کا ارادہ ہے کہ دنیا پر ظاہر کرے۔تم اگر اِس وقت ایک زبردست آدمی پر انگلی بھی رکھتے ہو اور وہ گر جاتا ہے تو و شور مچاسکتا ہے اور کہہ سکتا ہے کہ میں اس کی اُنگلی سے گرا۔اس طرح وہ ذلیل جو خدا دنیا میں قائم کرنی چاہتا ہے کمزور ہو جاتی ہیں۔وہ