خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 36

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء ہے جو تمام جانثاروں کے سروں پر سے گزر کر وہاں پہنچ جاتا ہے جس کی طرف پھینکا جاتا ہے۔ پس اس میں کوئی شبہ نہیں کہ گالیوں کا زخم بہت گہرا ہوتا ہے۔ اور اس لحاظ سے ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہمارے زمانہ کے ابتلاء پہلے سے کم ہیں ۔ ہمارے زمانہ میں بھی ویسے ہی ابتلاء ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ ان کی نوعیت اور شکل بدل گئی ہے۔ مگر یہ ابتلاء بھی مخلصوں کیلئے ہیں منافقوں کیلئے نہیں۔ ایک منافق آدمی جو خود بھی دشمنوں کے ساتھ مل کر حملہ کراتا ہو، اس کے سامنے اگر تلوار کا حملہ ہو تو اسے کیا تکلیف ہو سکتی ہے۔ عبداللہ بن ابی بن سلول جو یہ کہا کرتا تھا کہ ليُخْرِجَنَّ الْآعَزُّ مِنهَا الْأَذَلَّ لے سب سے زیادہ معز ز یعنی وہ سب سے زیادہ ذلیل یعنی نَعُوذُ بالله محمد صلی ا تم کو مدینہ سے نکال دے گا ۔ گویا وہ بد بخت رسول کریم ملی ایام کو سب سے زیادہ ذلیل سمجھتا اور کہا کرتا کہ جب چاہوں گا انہیں مدینہ سے نکال دوں گا۔ ایسے آدمی کے سامنے اگر کوئی محمد صلی لا الہ سلم کو گالیاں دیتا تو اسے کیا تکلیف ہو سکتی تھی ، وہ تو خوش ہی ہوتا۔ پس مخلص ہی ہے جسے تکلیف ہوتی ہے۔ اور مخلص ہی ہے جس کیلئے گالی اور تلوار برا بر ہیں ، بلکہ گالی میں زیادہ تکلیف ہے ۔ کیونکہ دشمن تلوار مارے تو یہ بیچ میں حائل ہو سکتا ہے لیکن گالی کو کسی طرح روک نہیں سکتا ۔ اور اگر اس کو جا کر کہے جو گالیاں دیتا ہے کہ تو گالی نہ دے ۔ تو ممکن نہیں کہ وہ گالی دینا چھوڑ دے ۔ وہ تو کہے گا کہ میں اور زیادہ گالیاں دوں کیونکہ میری گالیاں انہیں تکلیف دیتی ہیں ۔ پس وہ ایک پتھر سے دو حملے کرتا ہے۔ اس پر بھی جو ایک قوم کا مطاع ہے اور اس پر بھی جو اس کے ساتھ وابستہ ہے۔ غرض گالیاں اپنی ذات میں کوئی کم تکلیف دہ حملہ نہیں ۔ لیکن بہر حال جس ن گالیاں اپنی ذات میں میں دہ طرح صحابہؓ نے صبر و استقلال کے ساتھ تمام تکالیف کو برداشت کیا ، ہمارا فرض ہے کہ ہم بھی صبر سے اس ابتلاء کو برداشت کریں ۔ میں قطعا یہ نہیں کہہ سکتا اور نہیں کہتا کہ ہمیں بے غیرت ہو جانا چاہئے ، بلکہ میں کہتا ہوں کہ مومن کی غیرت سے زیادہ کسی اور کی غیرت نہیں ہوتی ۔ سب سے زیادہ غیور مومن ہوتا ہے ، گو سب سے زیادہ عفو کرنے والا بھی مومن ہوتا ہے۔ پس میں یہ نہیں کہتا کہ تم بے غیرت ہو جاؤ لیکن میں کہتا ہوں کہ تم اپنی غیرت کو صحیح طور پر استعمال کرو۔ اگر کوئی محمد مصطفی صلی ا تم کو گالیاں دیتا ہے یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو برا بھلا کہتا ہے تو ہماری غیرت یہ بھی کہہ سکتی ہے کہ آو! اس شخص کو قتل کر دیں۔ ہماری غیرت یہ بھی کہہ سکتی ہے کہ جس طرح یہ 34