خطبات محمود (جلد 14) — Page 35
خطبات محمود ۳۵۰ سال ۴۱۹۳۳ گالیاں دیتا ہے۔اسی طرح ہم بھی اسے گالیاں دیں۔مگر یہ بدلہ کوئی صحیح بدلہ نہیں ہو گا۔قتل اور گالی یہ دونوں چیزیں ایسی ہیں جن سے اسلام نے منع کیا ہے۔اور اگر کوئی شخص قتل کرتا یا بالمقابل گالیاں دینا شروع کر دیتا ہے تو وہ بھی اُسی صف میں کھڑا ہو جاتا ہے جس میں دشمن کھڑا ہے۔آخر دشمن کیوں بُرا ہے؟ کیا اسی لئے نہیں کہ وہ نبیوں کی تعلیم سے انکار کرنے والا ہے۔پس اگر تم بھی نبیوں کی کسی تعلیم کا انکار کرتے ہو تو تم بھی بُرے سمجھے جاؤ گے اور بجائے دشمن کو نقصان پہنچانے کے اپنا نقصان کر بیٹھو گے۔آخر اس کمبخت نے تو مرنا تھا ہی، آج نہیں تو کل مرجائے گا۔تم اگر اسے قتل کرتے ہو تو یہ تمہاری کوئی کامیابی نہیں۔یا گالیاں دیتے ہو تو یہ تمہارے لئے کوئی عزت کی بات نہیں بلکہ تم اپنا ہی نقصان کرتے ہو۔پس یہ طریق بدلہ لینے کا نہیں۔بدلہ لینے کا طریق یہ ہے کہ ہم دشمن کے وہاں چوٹ لگائیں جو ہمارے لئے عزت کا موجب ہو اور اُس کیلئے فائدہ کا باعث ہو۔دیکھو قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔تم ہمیں برا تو کہتے ہو لیکن اَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا۔پتہ بھی ہے، تمہارے بیٹے اور بیٹیاں، بھانجے اور بھانجیاں ، عزیز اور رشتے دار سب کو ایک ایک کر کے محمد ا کی گود میں لا رہے ہیں۔اسلام کے زمانہ میں ہمیں یہ نظارے نظر آتے ہیں۔ایک شخص شدید دشمن ہو تا رات اور دن رسول کریم اللہ کی مخالفت میں لگا رہتا مگر وہ خود یا اس کا کوئی عزیز بیٹا یا بیٹی، بیوی یا بہن داخل اسلام ہو جاتی۔حضرت عمر ان کا ہی واقعہ ہے۔وہ اپنی جوانی کے دنوں میں اسلام کی مخالفت میں بہت بڑھ چڑھ حصہ لیا کرتے۔حتی کہ ان کے گھر کی ایک خادمہ مسلمان ہو گئی تھی، وہ اسے سخت پیٹا کرتے۔اور جب خود مسلمان ہو گئے تو وہ یہ کہہ کر چڑایا کرتی کہ تم تو مجھے مسلمان ہونے کی وجہ سے پیٹا کرتے تھے، اب خود مسلمان ہو گئے ہو۔انہوں نے ایک دفعہ عزم کیا کہ رسول کریم ﷺ کو قتل کردیں۔تلوار سنبھالے جارہے تھے کہ راستہ میں انہیں ایک دوست ملا۔اس نے پوچھا خیر تو ہے کا ارادہ ہے؟ کہنے لگے محمد ( ا ) کو قتل کرنے جارہا ہوں۔اس نے کہا واہ واہ بڑے با غیرت ہو محمد کو تو قتل کرنے چلے ہو مگر اپنے دل کا حال معلوم نہیں کہ بہن اور بہنوئی مسلمان ہو چکے ہیں۔کہنے لگے ہیں! یہ بات ہے، اچھا میں پہلے ان کا ہی صفایا کرتا ہوں۔اللہ تعالی کی حکمت ہے رسول کریم اللہ ہمیشہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ یا اللہ ! ابو جہل یا عمر بن الخطاب ان دونوں میں سے کسی کو مسلمان کردے کیونکہ یہ دونوں پرجوش اور اعزاز کدھر