خطبات محمود (جلد 14) — Page 34
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء کر دے گا۔ لیکن اگر وہ تلوار چلانے والا ہوگا، تو گالیاں نہیں دے گا بلکہ لڑنے لگ جائے گا۔ اسی لئے جو قو میں قتل کرتی ہیں ، ان میں گالیاں دینے کی عادت کم ہوتی ہے۔ اور جو قتل نہیں کرتیں ، ان میں گالیاں دینے کی عادت زیادہ ہوتی ہے۔ پس در حقیقت گالی قتل کے قائم مقام ہوتی ہے۔ اور اس میں کیا شبہ ہے کہ بعض دفعہ گالی کا زخم تلوار کے زخم سے بہت سخت ہوتا ہے۔ مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سنایا کرتے تھے کہ کوئی ریچھ تھا، اس کا ایک آدمی سے دوستانہ تھا۔ اس کی بیوی ہمیشہ اسے طعن کیا کرتی تھی کہ تو بھی کوئی آدمی ہے، تیرار پچھ سے دوستانہ ہے۔ ایک دن اس کی دل آزار گفتگو اس قدر بڑھ گئی اور ایسی بلند آواز سے اُس نے کہنا شروع کیا کہ ریچھ نے بھی سن لیا۔ ریچھ نے تب ایک تلوار لی اور اپنے دوست سے کہا۔ یہ تلوار میرے سر پر مار (اس گفتگو کے متعلق حیرت نہیں ہونی چاہئیے ۔ یہ صرف ایک کہانی ہے یہ بتانے کیلئے کہ کوئی آدمی ریچھ کی شکل کا ہوتا ہے اور کوئی انسان کی صورت کا) اس شخص نے بہتیرا انکار کیا۔ مگر ریچھ نے کہا کہ ضرور میرے سر پر مار۔ آخر اس نے تلوار اُٹھائی اور ریچھ کے سر پر ماری۔ وہ لہولہان ہو گیا اور جنگل کی طرف چلا گیا۔ ایک سال کے بعد پھر اپنے دوست کے پاس آیا اور کہنے لگا، میرا سر دیکھ کہیں اس زخم کا نشان ہے؟ اس نے دیکھا تو کہیں زخم کا کوئی نشان دکھائی نہ دیا ۔ تب ریچھ نے کہا بعض جنگل میں بوٹیاں ہوتی ہیں۔ میں نے علاج کیا اور زخم اچھا ہو گیا۔ لیکن تیری بیوی کے قول کا زخم آج تک ہرا ہے۔ تو بعض اوقات تلوار کے زخم سے زبان کا زخم بہت زیادہ شدید ہوتا ہے۔ اور یہ تلوار ایسا زخم لگاتی ہے جو کبھی بھولنے میں نہیں آتا ۔ پس گولوہے کی تلوار چھین لی گئی لیکن چونکہ اخلاق درست نہ تھے اس لئے انہوں نے ایسی تلوار تلاش کی جو پر امن حکومت میں رہتے ہوئے مخالف پر چلا سکیں۔ اور چونکہ لوہے کی تلواران سے لے لی گئی تھی اس لئے انہوں نے زبان کی تلوار چلانی شروع کر دی۔ اور اس کے چلانے میں ایسا ملکہ حاصل کیا ہے کہ اس بارے میں وہ فرعون اور ابو جہل سے بھی بڑھ گئے ہیں ۔ قرآن مجید میں دشمنان اسلام کے اعتراضات درج ہیں۔ اور احادیث میں وہ گالیاں بھی درج ہیں جو مخالف دیا کرتے تھے۔ مگر وہ ساری گالیاں ملا کر کسی ایک دشمنِ احمدیت کی گالیوں کے پاسنگ بھی نہیں ۔ جس وقت اس کی زبان کھلتی ہے یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک تیز رو گھوڑا ہے جو ایک چابک کی بھی برداشت 32