خطبات محمود (جلد 14) — Page 33
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء تبلیغ احمدیت میں صبر و استقلال سے مشغول رہنے کی ہدایت (فرموده ۳ مارچ ۱۹۳۳ء) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔ اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ جماعتیں ہمیشہ تلواروں کے سائے تلے پلا کرتی ہیں۔ اور جو شخص اس قانونِ قدرت سے بچنا چاہتا ہے درحقیقت وہ اپنی کمزوری ایمان کی شہادت دیتا ہے۔ ہمارے زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے ابتلاء اور ٹھوکریں اور رنگ کی رکھی ہیں۔ پہلے زمانہ میں اس قسم کے ابتلاء اور ٹھوکریں نہیں تھیں۔ اس وقت زیادہ تر تلوار تھی ۔ مخالف تلوار اُٹھاتا اور کسی کی گردن اڑا دیتا یا پکڑتا اور پھانسی پر لٹکا دیتا۔ اب بظاہر یہ نظر آتا کہ اس قسم کی تلوار باقی نہیں رہی کیونکہ انگریزی حکومت میں تلوار اور گولی سے کسی کو مذھبی مخالفت کی وجہ سے قتل نہیں کیا جاتا۔ مگر جب کسی قوم کے اخلاق برے ہوتے ہیں اور اس سے تلوار لے لی جاتی ہے تو اس تلوار کی بجائے اس کی زبان کی تلوار چلنی شروع ہو جاتی ہے۔ تلوار بعض اوقات نیک آدمی کے ہاتھ سے بھی لے لی جاتی ہے اور بعض اوقات بد آدمی کے ہاتھ سے بھی۔ مگر فرق یہ ہوتا ہے کہ جب تلوار ایک نیک آدمی کے ہاتھ سے لے لی جائے تو اس کے اخلاق میں کسی قسم کی بڑی تبدیلی پیدا نہیں ہوتی ۔ اور تلوار چھن جانے کے باوجود وہ پھر بھی بہادر ہوتا ہے۔ پھر بھی رحم دل اور حوصلہ مند ہوتا ہے۔ اور پھر دشمنوں سے درگزر کرنے والا ہوتا ہے۔ لیکن جب بڑے آدمی سے تلوار لے لی جائے تو وہ گالی گلوچ اور طعن و تشنیع پر اتر آتا ہے۔ تم تجربہ کر کے دیکھ لو گندے اخلاق کے آدمی کو ذرا دق کرو، وہ فوراً گالیاں دینا شروع 31