خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 31

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء مترتب نہیں ہو سکتے ، اصل چیز نیت ہے۔ کسی شخص کے بدن پر بچھو چڑھ گیا ہوا اور دوسرا زور کے ساتھ مگامار کر بچھو کو مار ڈالتا ہے۔ مگر ایک اور اسے یونہی مُکا مار دیتا ہے تو دونوں میں کتنا فرق ہے۔ ایک کے ساتھ تو وہ لڑ پڑے گا مگر دوسرے کا شکریہ ادا کرے گا کیونکہ بچھو کو مارنے والے نے اسے فائدہ پہنچایا۔ اگر مگا مارنے کی بجائے اسے متوجہ کرتا تو ممکن تھا کہ قبل اس کے کہ بچھو تک اس کا ہاتھ پہنچتا ، وہ ڈنگ مار دیتا ، اُس نے اپنی تکلیف کی پرواہ نہ کرتے ہوئے دوسرے کو ضرر سے بچایا ۔ مگر ایک اور نے اسے تکلیف دینے کیلئے مگا مارا تو عمل کی ظاہری شکل نہیں دیکھنی چاہئے ۔ کئی لوگوں کی نماز بھی ایسی ہی بری ہو سکتی ہے جیسے چوری ۔ قرآن کریم میں آیا ہے وَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ ہے تو ظاہری اعمال کے ساتھ نیت کی درستی بھی ضروری ہے۔ اور اصل نیت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو، اخلاق کی درستی ہو جائے۔ اور اگر ساتھ کے ساتھ یہ چیزیں حاصل نہ ہوں تو انسان سمجھ لے کہ اس کی نیت میں خرابی ہے اور اس نے نماز صحیح طریق پر ادا نہیں کی۔ زمیندار جب گھر پے سے گھاس کاٹتا ہے یا درانتی کے ساتھ کوئی فصل کاٹتا ہے تو وہ ساتھ کے ساتھ کٹ کر مٹھی میں آتی جاتی ہے۔ اگر ایک بار در انتی چلانے کے ساتھ اس کی مٹھی میں کچھ نہ آئے تو معا اسے توجہ پیدا ہو جاتی ہے۔ اور اگر کسی اور طرف متوجہ ہو یا کسی سے باتیں کر رہا ہو تو فورا دیکھ کر ہاتھ کو ٹھیک کرتا اور درانتی کو صحیح طور پر چلاتا ہے۔ لیکن بہت سے ہیں کہ نمازیں پڑھتے رہتے ہیں ، روزے رکھتے ہیں جس کا نتیجہ کچھ نہیں نکلتا مگر وہ کوئی خیال نہیں کرتے ۔ حالانکہ اگر ان کی نمازیں صحیح ہوتیں تو کچھ تو نتیجہ نکلنا چاہیے تھا۔ کوئی وجہ نہیں کہ آدمی صحیح طور پر نماز پڑھے اور اس کا خدا کے ساتھ تعلق نہ ہو۔ وہ روزے رکھے مگر وحشی کا وحشی ہی رہے اور بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی اس کے دل میں پیدا نہ ہو۔ اگر وہ ٹھیک طور پر نماز پڑھتا ، روزے رکھتا تو نتیجہ بھی ضرور ظاہر ہوتا ۔ اس کا محروم رہنا دو صورتوں سے خالی نہیں۔ یا تو نماز سے فائدہ حاصل ہی نہیں ہو سکتا اور یا اس نے اس کا ٹھیک طور پر استعمال نہیں کیا۔ پس نماز ، روزہ اور دیگر عبادات میں ہمیشہ نیت درست رکھنی چاہئے ۔ ناصحیح نتیجہ حاصل ہو اور اگر حاصل نہ ہو تو چاہئے کہ انسان فکر کرے۔ کیونکہ وہ بات جو قرآن کریم نے بیان کی ہے غلط نہیں ہو سکتی ضرور نقص اس کی اپنی طرف سے ہے۔ اگر ایک ماہر مالی کسی کو اپنا آزمایا ہوا اور تجربہ شدہ بیچ دے اور وہ نہ چھوٹے تو اس کے یہی معنے ہوں 29