خطبات محمود (جلد 14) — Page 328
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء کو رد کر چکے تھے۔ اور اسے سچائی کے پرکھنے کا ذریعہ تسلیم نہ کرتے ہوئے بعد میں زندہ رہنے والے کو مسیلمہ کے مشابہہ قرار دیتے تھے، وہ اب اس فیصلہ کو اپنی سچائی کی علامت قرار دے کر مسیلمہ ہونے کا عملی ثبوت دے رہے ہیں۔ بہر حال ان کیلئے دروازہ کھلا ہے۔ وہ اب اعلان کر دیں کہ ان کے عقیدہ میں اس وقت بھی یہ معیار درست تھا اور اب بھی درست ہے۔ اور یہ کہ اسی دعا کی وجہ سے مرزا صاحب فوت ہوئے ہیں ۔اور یہ کہ وہ مولوی صاحب کے عقیدہ کی رو سے مفتری اور کذاب تھے۔ اور اگر میں اس دعا میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر خدا تعالیٰ کی لعنت کی مار پڑے۔ پھر اگر اس دعا کے شائع ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ کی گرفت سے وہ بچے رہیں اور ان کی ذلت ورسوائی کے زیادہ سے زیادہ سامان نہ ہو جائیں تو وہ جتنا چاہیں خوش ہوں لیکن اگر خدا ہے کا نشان ظاہر ہو جائے تو عقلمندوں پر واضح ہو جائے گا کہ کون ہے جو خدا کے نزد یک راہِ راست پر ہے۔ دورُخی سے کام نہیں چلتا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام ہے کہ فرشتوں کی کھینچی ہوئی تلوار تیرے آگے ہے ۔ یہی تلوار ہے جو ہر میدان میں آپ کی جماعت کو کامیاب کر رہی ہے۔ یہ دو دو صفحوں کے اشتہار کیا حیثیت رکھتے ہیں ۔ انہیں تو ایک بچہ بھی اپنی انگلی سے پھاڑ سکتا ہے۔ پس اگر مولوی ثناء اللہ صاحب چاہتے ہیں کہ انہیں ان کی کھوئی ہوئی عزت پھر واپس ملے اور مسیلمہ کذاب کا نام ان سے دور ہو جائے تو اس کی ایک ہی صورت ہے ۔ اور وہ یہ کہ وہ اپنے اخبار ا میں اس قسم کا اعلان کر دیں۔ مگر وہ ایسا کبھی نہیں کریں گے ۔ کیونکہ ان کی یہ دیرینہ عادت ہے کہ وہ کبھی صحیح طریق فیصلہ کو اختیار نہیں کیا کرتے۔ اور ہمارے مقابلہ سے ہمیشہ کئی کتراتے ہیں۔ اس کے بعد میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ جاتے وقت سفر میں دعائیں کریں۔ خواہ دوست آج جانے والے ہوں یا گل یا اس کے بعد جانے والے ہوں ۔ بہر حال وہ دعائیں کریں ۔ سفر میں بھی اور حضر میں بھی کہ جو نو ر وہ یہاں سے لے جا رہے ہیں اور جو پیالہ اِس جگہ سے پی رہے ہیں ، اس نور سے وہ دوسروں کو بھی مستفیض کریں ۔ اور وہ پیالہ اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں اور دوستوں کو بھی پلائیں۔ پھر اپنے لئے ، اپنے عزیزوں رشتہ داروں اور دوستوں کیلئے دعائیں کریں۔ ان مبلغین کیلئے دعائیں کریں جو سلسلہ کی تبلیغ میں مصروف ہیں ۔ ان لوگوں کیلئے دعائیں کریں جو ہمارے سلسلہ کی طرف متوجہ ہیں۔ اور ان لوگوں کیلئے بھی جنہیں ابھی تک توجہ نہیں تا اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کی نصرت نازل ہو۔ اور ہم 326