خطبات محمود (جلد 14) — Page 321
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء علیہ السلام کے ذریعہ پھر نیک اور ہمارے ہاتھوں سے زمین کو درست کرائے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیں مصالحہ دے گئے ہیں۔ اس کو استعمال میں لانا ہمارا کام ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ہم واقعی یہ کام کر رہے ہیں۔ اگر ہم میں سے کوئی شخص معاملہ کا نہایت صاف ہے اور اس میں امتیازی حیثیت رکھتا ہے تو وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہاتھ بٹاتا ہے۔ وہ کہہ سکتا ہے کہ میں نیا ہوں کیونکہ مجھ میں اور دوسروں میں فرق ہے۔ یہ نشان نئی زمین ہونے کا ثبوت ہوگا ۔ ہزار ہا افراد ہیں جن میں ایسا تغیر پیدا ہوا ہے۔ پنجاب کا ایک مشہور سرغنہ ڈا کو جسے ڈا کو حصہ دینے آیا کرتے تھے اس کے متعلق مجھے دوستوں نے بتایا کہ وہ کہتا ہے میں نے کوئی نشان نہیں دیکھا بلکہ میں خود نشان ہوں ۔ حضرت مرزا صاحب نے مجھے بدل دیا ہے اور میرے لئے نئی زمین پیدا کر دی ہے۔ رسول کریم صلی السلام نے مومن کے دل کو زمین قرار دیا ہے۔ اگر ہمارا نفس بدل جائے تو اس رویا پر اعتراض کرنے والوں سے ہم کہہ سکتے ہیں دیکھو ہمارا آسمان اور ہماری زمین بدل گئی ہے۔ کیونکہ ہم خود بدل گئے ہیں ۔ اسی طرح محلے والوں سے کہا جا سکتا ہے دیکھو ہم میں سے کون بدلا ہے تم یا ہم ۔ اس طرح ہر احمدی اپنے ساتھ ایک نیا آسمان اور نئی زمین لئے پھرے تو جہاں کوئی اعتراض کرے فورا پیش کر دے۔ اعتراض کرنے والا لا جواب ہو جائے گا۔ کیونکہ اعتراض کی اسی وقت تک گنجائش ہے جب تک کہ ہماری جماعت اس کی طرف توجہ نہیں کرتی ۔ رویا میں استعارہ اور تشبیہ سے کام لیا گیا ہے اس سے جو فائدہ حاصل ہوا ہے اس کے مقابلہ میں اعتراض کی کچھ وقعت نہیں چونکہ نقصان کی نسبت فائدہ زیادہ تھا اس لئے خدا وند تعالیٰ نے پرواہ نہ کی کہ مخالفین اعتراض کریں گے۔ اس طرح سے ایک نئی روح پیدا ہو گئی ۔ ( الفضل ۲۱- دسمبر ۱۹۳۳ء) 319