خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 320

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء اپنے بزرگوں کو صحیح رنگ میں مانتے ہیں دوسروں کی نسبت ان کی حالت بہتر ہے۔ ان کی تعلیم پر اگر عمل کیا جائے تو دنیا پر امن بن جائے اور ایک نمایاں تبدیلی نظر آئے ۔ ایسی تعلیم کب جھوٹی ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس ان کی تعلیم سے اگر بدی پیدا ہو تو ہم کہیں گے کہ وہ شیطان کی تعلیم ہے۔ کیونکہ ان بزرگوں کی تعلیم شیطان کے خلاف تھی۔ وہ شیطان سے بچنے کی تلقین کرتے اور تجاویز بتاتے تھے۔ اگر وہ شیطانی تعلیم کے حامل ہوتے تو شیطان کی مخالفت نہ کرتے ۔ کون ایسا بیوقوف ہے جو خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارے؟ ان کے حملے شیطان پر ہوتے تھے۔ بھلا شیطان کب شیطان پر حملہ آور ہو سکتا ہے۔ یہ نکتہ قرآن میں موجود علم کا تھا۔ مگر کسی کو اس کا علم نہیں تھا۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کرشن ہونے کا دعویٰ کیا تو مسلمانوں نے آپ پر کفر کے فتوے لگانے شروع کر دیئے مگر آج تمام مسلمان مانتے ہیں کہ تمام مذاہب کی بنیاد صداقت پر ہے۔ چوبیس سال کے بعد آج تعلیم یافتہ مسلمانوں کا طبقہ دیگر مذاہب والے دوستوں سے کہتا ہے کہ دیکھو ہمارا مذہب کتنا اچھا ہے کہ آپ کے بزرگوں کو بھی بزرگ کہتا ہے۔ حضرت مسیح ناصری کے متعلق عقیدہ تھا کہ وہ آسمان پر ہیں۔ اس عقیدہ کو بہت اہمیت دی جاتی تھی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آکر اس کی تردید کی ۔ یہ صداقت اتنی مقبول ہوئی کہ اب لوگ اس کے متعلق بھی کہتے ہیں کہ یہ عقیدہ تو تھا ہی نہیں ۔ سوظاہری اقرار کے لحاظ سے نیا آسمان اور نئی زمین بن چکی ہے۔ لیکن عملاً بھی تو نیا آسمان اور نئی زمین بنانی چاہئیے ۔ آسمان کی پیدائش میں خدا کا ہاتھ ہے لیکن زمین ہمارے ہاتھوں میں ہے۔ صرف آسمان کا اچھا ہونا کی مں خدا کا ہے ہے۔ ہمارے لئے کافی نہیں زمین کا اچھا ہونا بھی نہایت ضروری ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ رسول کریم صلی السلام کے زمانہ میں ایک مسلمان سودینار کا ایک گھوڑالا یا۔ ایک اور مسلمان وہی گھوڑا اس نئے مالک سے خرید نے کیلئے آیا۔ گھوڑا اچھا تھا خریدار نے کہا میں اس گھوڑے کی قیمت دو سو دینار پیش کرتا ہوں مالک نے کہا میرے گھوڑے کی قیمت سو دینار ہے میں دوسود بینا ر کیسے لے سکتا ہوں ۔ یہ کتنا بڑا تغیر تھا جو رسول کریم علیہ السلام نے کیا کہ آپ سے پہلے جو زمین تھی آپ نے اس کو بدل دیا۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام پہلی زمین کو بدلنے کیلئے تشریف لائے مگر اس مادی زمین کو بدلنے کیلئے نہیں بلکہ اعمال کی ایک نئی زمین پیدا کرنا مقصود تھا۔ خدا تعالیٰ نے چاہا کہ وہ ہمارے اعمال کو حضرت مسیح موعود 318