خطبات محمود (جلد 14) — Page 318
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء ہے جب کسی جگہ مکانات بن جاتے ہیں تو اس کا نقشہ بدل جاتا ہے۔ اسی طرح آسمان اور زمین بھی بدل کر نئے معلوم ہونے لگتے ہیں ۔ بہت سے الہامات کو پورا کرنا نبی کی جماعت کے ذمہ ہوتا ہے۔ نبی جماعت کیلئے مصالحہ فراہم کر کے خود چلا جاتا ہے۔ اس مصالحہ سے کام لینا جماعت کا فرض ہوتا ہے۔ اگر یہ رویایوں ہوتا کہ ہم جماعت کو نیک اور صالح بنادیں گے تو دل پر کبھی اتنا اثر نہ ہوتا لیکن نیا آسمان اور نئی زمین بنانے کے الفاظ دل کو ہلا دیتے ہیں۔ ان میں ایک آئیڈیل (IDEAL) قائم کر دیا گیا ہے۔ جس پر چلنا ہماری جماعت کا فرض ہے۔ رسول کریم صلی السلام کے زمانہ اور موجودہ وقت کو دیکھئے ظاہری اقرار کے لحاظ سے ہی دونوں زمانوں میں بڑا فرق نظر آتا ہے۔ رسول کریم صلی ا ہم نے جب توحید کی تعلیم پیش کی تو کفار اسے بیوقوفی کی بات خیال کرتے تھے۔ چنانچہ قرآن کریم میں آیا ہے کہ کفار مکہ کہتے تھے اس نے تو بہت سے معبودوں کو گوٹ کر ایک بنا دیا ہے گویا سب کو قیمہ کر کے ایک بت بنا دیا تھا۔ وہ تو میں جو اس وقت نہایت مضحکہ خیز اور مجنونانہ حرکتیں کرتی تھیں، آج ظاہرہ طور پر اب ان سے انکاری ہیں ۔ ہندو کہتے ہیں ہم بت پرست نہیں۔ بت کو سامنے رکھ کر خدا کا تصور کرتے ہیں۔ عیسائی کہتے ہیں خدا کا ظہور بیٹے اور روح القدس کی صورت میں ہوا در حقیقت خدا ایک ہی ہے۔ یہی نہیں بلکہ کہتے ہیں کہ صحیح وحدانیت عیسائیت میں ہی ہے۔ کبھی وہ وقت تھا کہ اقوام عالم کے نزدیک توحید ایک نا قابل تسلیم مسئلہ تھا۔ لیکن آج اسے اتنا فروغ حاصل ہو چکا ہے کہ اسے معمولی بات سمجھا جاتا ہے۔ اور ہر قوم مدعی ہے کہ ہم نے ہی دراصل توحید کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ پھر تمدن میں اس ظاہری اقرار کو دیکھئے حضور سرور کائنات سے پہلے عورتوں کو کہیں مساوی حقوق حاصل نہیں تھے ۔ اور اگر عورت کو کچھ حقوق حاصل تھے بھی تو وہ نہایت مضحکہ خیز تھے جیسے مرد و عورت کی پوجا۔ وہ مذاہب جن میں یہ باتیں ابھی رائج ہیں وہ اپنے عقائد کو چھپاتے ہیں ۔ دوسری قو میں جنہوں نے عورتوں کے حقوق رسول کریم صلی ا لی تم سے سیکھے وہ کہہ رہی ہیں کہ یہ تو ہمارے عقائد میں داخل تھے۔ میں نے عیسائی کتابوں میں پڑھا ہے کہ اسلام میں عورت کی روح تسلیم نہیں کی گئی ۔ صرف انجیل ہی ایسی کتاب ہے جس میں عورت کی روح کو تسلیم کیا گیا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن میں خود مسیح ناصری کی والدہ حضرت مریم کی عزت قائم کی گئی ہے۔ ظاہری اقرار کے اعتبار سے عورتوں کا آج اور پہلے کا نقشہ دیکھ لو۔ پہلے مرد عورت کو ستا تا تھا، مارتا تھا، پیٹتا تھا اور سمجھتا تھا کہ اس 316