خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 317 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 317

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء کی مار پیٹ جائز ہے۔آج بھی بدستور سابق مرد عورت کو ستاتا اور پیٹتا ہے۔یورپ میں بھی ایسا ہوتا ہے۔لیکن اب مرد کہتا یہ ہے کہ عورت کو ستانا اور پیٹنا جائز نہیں۔عمل وہی ہے لیکن ظاہری اقرار یکسر بدل گیا ہے۔اسلام نے ایسا تغیر پیدا کیا کہ غیروں میں بھی اس تغیر کا ظہور ہوکر رہا۔صوفیاء لَوْلاكَ لَمَا خَلَقْتُ الْأَفَلاكَ کثرت سے پڑھا کرتے ہیں۔اس کا بھی یہی مطلب ہے کہ ایک نیا آسمان اور نئی زمین پیدا ہو گئی۔مگر اس الہام کا یہ مطلب نہیں کہ صرف رسول کریم اس نے ہی نیا آسمان اور نئی زمین پیدا کی بلکہ اوروں سے بھی ایسا ہی ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی نیا آسمان اور نئی زمین بنائی۔افلاک سے مراد وہ افلاک نہیں ہے جو رسول کریم لال کے بعد پیدا ہوئے تھے۔پہلے افلاک کا محور نفس ناطقہ تھا۔مقصود رسول کریم کی ذات تھی۔لیکن اب آئندہ پیدا ہونے والے افلاک کا محور آپ کی ذات ہے یعنی آئندہ تغیرات کیلئے آپ محور ہیں۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رویا دیکھا کہ آپ نے نیا آسمان اور نئی زمین بناتی ہے یعنی دنیا میں تغیر پیدا کر دیا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ایک نیا آسمان اور نئی زمین پیدا کردیں؟ کیا ہمارے نفسوں میں اتنا تغیر پیدا ہو گیا ہے کہ لوگ کہہ اُٹھیں کہ یہ تو بالکل بدل گئے۔انہوں نے نیا آسمان اور نئی زمین بنا ڈالی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دو قسم کے نشانات ہیں۔ایک تو وہ جن کو پورا کرنا خدا کا کام ہے۔دوسرے وہ جن کے پورا ہونے میں ہمارا بھی دخل ہے۔ان کے متعلق ہمیں پوری پوری کوشش سے کام لینا چاہیئے۔کئی علوم ایسے ہوتے ہیں جن کو نبی ہی سمجھ سکتا ہے۔اگر ایسا نہ ہو تو نبی کی ضرورت ہی کیوں ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تیرہ سو سال بعد کئی ایسی باتیں بتائیں جو پہلے موجود تو تھیں مگر مسلمانوں کو ان کا علم نہیں تھا۔مثلاً آپ نے بتایا کہ تمام مذاہب کی بنیاد صداقت پر ہے۔وہ پیشوا جن کے لاکھوں اور کروڑوں پیرو ہوں اور ایک طویل عرصہ وہ پیرو ان سے ہدایت حاصل کرتے رہے ہیں ان کے پاس ضرور صداقت تھی۔یہ علیحدہ بات ہے کہ بعد میں ان کی اصل تعلیم میں تحریف ہو گئی لیکن اس میں کسی کو کلام نہیں کہ اس کی بنیاد صداقت پر تھی۔رام کرشن ، زرتشت، بدھ تمام اپنے اپنے زمانہ میں صداقت کے حامل تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے پہلے بڑے بڑے بزرگ بھی دوسری قوموں کے بزرگوں کو اگر بُرا نہیں۔سمجھتے تھے تو انہیں مشتبہ نگاہوں سے ضرور دیکھتے تھے دوسری قوموں میں سے جو لوگ۔