خطبات محمود (جلد 14) — Page 27
خطبات محمود ۲۷ سال ۱۹۳۳ء سے یہ مقصد بھی حاصل نہیں ہو سکتا۔نماز بیشک اس کا ایک ذریعہ ہے مگر اس ذریعہ کو اگر صحیح طور پر استعمال نہ کیا جائے تو اس کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص گھوڑے پر چڑھ کر چکر ہی کاتا رہے۔ظاہر ہے کہ کولہو کے بیل کی طرح چکر کاٹتے رہنے سے کوئی منزل مقصود پر نہیں پہنچ سکتا۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز لڑائی جھگڑے اور فتنہ و فساد سے روکتی ہے۔اب جو شخص نماز پڑھنے کے باوجود ان باتوں سے باز نہیں رہتا تو معلوم ہوا اس نے ٹھیک طور پر نماز نہیں پڑھی۔اسی طرح نماز کے متعلق قرآن کریم - معلوم ہوتا ہے کہ یہ قرب الہی کا ذریعہ ہے۔مگر جس کے دل میں محبتِ الہی پیدا نہیں ہوتی ایک نور اس کے قلب میں پیدا نہیں ہوتا، وہ کس طرح کہہ سکتا ہے کہ میں نماز پڑھتا ہوں۔محبت ایک ایسی چیز ہے جو اگرچہ الفاظ میں ادا نہیں ہو سکتی لیکن ہر شخص اسے بخوبی محسوس کر سکتا ہے اور پہچان سکتا ہے کہ اس کے اندر محبت ہے یا نہیں۔انسان کو اپنے بیوی بچوں محبت ہوتی ہے، انہیں دیکھ کر اس کے دل میں ان کیلئے مسرت اور خیر خواہی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔اسی طرح اگر خدا تعالی کیلئے محبت اس کے دل میں جوش مارتی ہے تو اس کی صحیح ہے۔کیونکہ جب تک دل میں احساس نہ ہو اُس وقت تک اگر کوئی شخص زبان سے کہتا رہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ سے محبت ہے تو وہ اپنے آپ کو بھی اور دوسروں کو بھی دھوکا دیتا ہے۔لیکن اگر واقعی اللہ تعالیٰ کے ذکر پر اس کے دل میں محبت جوش مارتی ہے، رقت، درد اور سوزو گداز پیدا ہوتا ہے۔جس طرح اگر کسی شخص کا بچہ کہیں ڈور گیا ہوا ہو اور تم اس کے پاس اس کا ذکر کرو تو اس کے جسم میں ایک خاص احساس پیدا ہو جائے گا۔اس کے بدن کے رونیں کھڑے ہو جائیں گے اور طبیعت میں رقت اور نرمی کی کیفیت پیدا ہو جائے گی۔یا جس عورت کا خاوند کہیں دور گیا ہوا ہو، اس کے سامنے یہ ذکر کرو کہ وہ آنے والا ہے تو اس کا چہرہ متغیر ہو جائے گا اور اس کی شکل ظاہر کرے گی کہ اس کے اندر کوئی خاص احساس پیدا ہوا ہے۔یہی حالت اگر اللہ تعالیٰ کے ذکر پر انسان کے اندر پیدا ہو تو وہ خیال کر سکتا ہے کہ اس کے دل میں اللہ تعالی سے کچھ محبت ہے۔لیکن جب منہ سے محبت محبت کہا جائے لیکن دل کے اندر کوئی تغیر نہ پیدا ہو تو یہ محبت محض لفظی ہوگی۔کیونکہ حقیقی محبت ضرور انسان کے اندر تغیر پیدا کرتی ہے۔یہ دو مقصد ہیں انسانی پیدائش کے اور ان کیلئے قربانی کی ضرورت ہے۔پھر قربانی کے ساتھ نیت کی بھی ضرورت ہے۔اگر کوئی شخص کسی مسافر سے کہے کہ بارش نماز