خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 314 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 314

خطبات محمود ۳۱۴ ۳۳ سال ۶۱۹۳۳ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک رؤیا کی تشریح۔نیا آسمان اور نئی زمین بنانے کا مطلب (فرموده ۸- دسمبر ۱۹۳۳ء) تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک رؤیا کا ذکر فرمایا ہے جو آپ نے اپنی الهامی زندگی کے ابتدائی ایام میں دیکھا تھا۔وہ رویا اغیار کے نزدیک ہمیشہ محل اعتراض بنا رہا لیکن ہمارے لئے یہ سوچنے کی بات ہے کہ آخر اللہ تعالیٰ کو غرض کیا تھی کہ وہ ایسا رویا لالی ہے۔دکھاتا جس پر اعتراض پڑتا۔اور جس سے کوئی فائدہ مقصود نہ ہوتا۔مگر اصل بات یہ ہے جب کسی بات کو استعارہ یا تشبیہ کے ساتھ بیان کیا جائے تو اس سے خاص فائدہ مد نظر ہوتا ہے ہے۔بیشک استعارات و تشبیہات بعض دفعہ فتنہ کا موجب بھی ہو جاتی ہیں۔مگر ان کا استعمال اس وقت جائز ہے جب نقصان کی نسبت فائدہ زیادہ ہو۔حضرت مسیح ناصری نے جب خدا تعالیٰ کے متعلق یہ کہا کہ وہ تمہارا باپ ہے تو اس استعارہ اور تشبیہ نے بہت نقصان پہنچایا۔کروڑہا انسان غلطی سے حضرت مسیح کو خدا کا بیٹا تصور کرنے لگے اور کرتے ہیں۔ان لوگوں کے ایمان کی خرابی اس استعارہ کے استعمال سے ہی پیدا ہوئی۔اللہ تعالیٰ نے اس بات کو کسی بڑے فائدہ کیلئے ہی روا رکھا۔حضرت مسیح علیہ السلام سے متعلق واقعات کی ذمہ داری مسیحیوں پر ہی ہے۔ہمارے لئے قابل حل وہ دقتیں ہیں جو احمدیت کے متعلق ہیں اور ان میں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ رویا ہے کہ مجھے پیدائش عالم کی قدرت دی