خطبات محمود (جلد 14) — Page 312
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء ہیں۔ اور بھی سینکڑوں گھروں میں مہمان آتے ہیں ۔ ہیں ۔ جن کی خاطر وہ تکلیف اٹھاتے ہیں۔ دوسرے مکانوں والوں کو بھی میں یہی نصیحت کرتا ہوں ۔ ایک نقص یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ اپنے آرام کی خاطر کھانے کی پرچیاں زیادہ تعداد کیلئے لے لیتے ہیں تا کہ بار بارکھانا نہ لانا پڑے۔ اس طرح کھانا ضائع ہوتا ہے۔ خواہ کھانا لانے کیلئے دو پھیرے بلکہ اس سے بھی زیادہ کرنے پڑیں دوستوں کو چاہئیے کہ اتنا ہی کھانا لیں کہ جو باقی نہ بچے اور ضائع نہ ہو۔ پھر ان لوگوں کے سوا جو کسی طرح اپنے کاروبار جلسہ کے ایام میں چھوڑ نہیں سکتے مثلاً دکاندار وغیرہ، باقی سب کو چاہیے کہ جلسہ کا کام کریں۔ بلکہ ایسے لوگ بھی کچھ نہ کچھ وقت دے سکتے ہیں۔ اور اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ ان کے کام میں برکت دے گا۔ پھر مہمانوں کے ساتھ اخلاق سے پیش آنا چاہئیے ۔ کھانا تقسیم کرنے والوں کو چاہیے کہ کسی سے بدسلوکی نہ کریں تاکسی کو ٹھوکر نہ لگے۔ یہ نہیں چاہئیے کہ کوئی دوست آیا تو اسے جلد دے دیا۔ اور نا واقف جو گھنٹہ بھر سے کھڑا ہو اس کی پرواہ نہ کی جائے ۔ اس سے لوگوں میں یہ خیال پیدا ہو سکتا ہے کہ یہاں بھی کام دیانتداری سے نہیں ہوتا۔ پھر باہر کے دوستوں کو چاہئے کہ دوسرے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں اپنے ساتھ لانے کی کوشش کریں۔ ایسے لوگوں میں سے ہر سال خدا کے فضل سے سات آٹھ سو آدمی بیعت کر جاتے ہیں۔ لیکن اب کے ایک دقت ہے۔ یعنی رمضان جلسہ کے ایام میں ہے۔ ہماری جماعت کے لوگ تو جانتے ہیں کہ دینی کاموں کیلئے رمضان کے چند روزے ملتوی بھی کئے جاسکتے ہیں۔ لیکن دوسروں کو لانے میں یہ دقت ہوگی ۔ یہاں آتے تو وہی لوگ ہیں جو دین سے مس رکھتے ہیں۔ اور وہ روزے رکھتے ہیں لیکن جو دین سے غافل ہیں وہ آتے ہی نہیں۔ پھر جو آئیں گے ممکن ہے دوسروں کو روزہ نہ رکھنے کی حالت میں دیکھ کر انہیں ٹھوکر لگے ۔ انہیں کیا معلوم کہ کھانے والوں میں کون مقامی ہے اور کون بیمار یا مسافر یا معذور ہے۔ اور یہ ایک ایسا ابتلاء ہے جو پہلی بار ہی پیش آئے گا۔ اس لئے جن لوگوں کو ساتھ لانے کیلئے تیار کیا جائے ، چاہئیے کہ ساتھ کے ساتھ انہیں ان مسائل سے بھی آگاہ کر دیا جائے۔ اور ابھی سے انہیں سمجھانا شروع کر دیا جائے تا یہاں آ کر انہیں دقت نہ ہو۔ ایک حدیث ہے جو دراصل ابوسفیان کا قول تھا۔ اور رسول کریم صلی ای تمیم نے اس کی تصدیق کی ہے۔ اور اس کے معنے یہ ہیں کہ جنگ ایک ترازو کی طرح ہوتی ہے۔ جس کا کبھی ایک پلڑا بھاری ہوتا ہے اور کبھی دوسرا لے۔ اسی طرح ہماری جماعت ترقی کر رہی ہے کبھی کم 310