خطبات محمود (جلد 14) — Page 309
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء پس اس کو محفوظ رکھو۔ اور پھر تمہاری سوئی بھی ضائع نہیں ہو سکتی ۔ چہ جائیکہ تمہیں کوئی نقصان پہنچا وو سکے ۔ کیونکہ سوئی بلکہ بوٹ کا تسمہ بھی سب کچھ میں شامل ہے۔ پس چاہئیے کہ تقویٰ کو قائم کرو۔ میں ہر ذمہ دار طبقہ کو خواہ وہ صدر انجمن احمد یہ ہو یا لوکل کمیٹی یا ینگ مینز ایسوسی ایشن نصیحت کرتا ہوں کہ ہمارے افعال کی بنیاد تقویٰ پر ہونی چاہئیے۔ چھوٹوں کی غلطی کی وجہ سے بڑوں کو ندامت اٹھانی پڑتی ہے۔ اگر وہ کہیں کہ ہمیں علم نہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اپنے افراد پر ذمہ دار لوگوں کا اقتدار نہیں۔ اگر علم ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ خود بھی شامل ہیں ۔ رسول کریم صل الا السلام کے زمانہ میں بھی تیز طبیعت کے لوگ ہوتے تھے۔ حضرت خالد بن ولید فتح مکہ کے وقت نو مسلم اور پھر جو شیلی طبیعت رکھتے تھے۔ آپ نے مکہ میں تلوار چلائی۔ آج تک لوگ اس پر اعتراض کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی السلام کے اشارہ سے ہی ایسا کیا ہوگا۔ تیرہ سو سال تک اولیاء اللہ اس اعتراض کے دفعیہ میں لگے رہے ہیں ۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اس کے جواب میں وقت صرف کیا ہے۔ حالانکہ محمد رسول اللہ صلی اما ایلم کو اس کا علم تک نہ تھا۔ ایک جوشیلے نو مسلم نے ایک حرکت کی جس کا جواب تیرہ سو سال سے دیا جا رہا ہے ۔ پس جن باتوں سے پہلے لوگ گزر چکے ہیں اور جن الزامات کو دور کرنے کیلئے ایک لمبا وقت صرف کیا جا چکا ہے تو کیا ہی عجیب بات ہو گی کہ جب لوگ ان باتوں کو چھوڑ دیں اور جب ثابت ہو جائے ۔ کہ رسول کریم صلی السلام کا ایسی باتوں سے کوئی تعلق نہ تھا بلکہ آپ اس بات پر ناراض ہوئے تھے تو نیا جھگڑا شروع ہو جائے کہ اچھا تم کیوں ایسا کرتے ہو۔ اور پھر ہماری اولادوں کو ہم پر سے یہ اعتراض دور کرنے کیلئے وقت خرچ کرنا پڑے اور جب ہم پر سے یہ دور ہو جائے تو آئندہ آنے والے مامور کی جماعت پر یہ ہونے لگ جائے۔ اور پھر ان کی اولادیں ان پر سے دور کرنے میں لگی رہیں ۔ اس لئے جو شیلے نو جوانوں کا قابو میں رکھنا بھی فرض ہے۔ جھوٹ تو سب کے متعلق بولا جا سکتا ہے حتی کہ رسول کریم صلی السلام کی مظلومیت کو بھی متعصب لوگوں نے ظلم قرار دے دیا ہے۔ غرض اگر کوئی جھوٹ پر کمر باندھ لیتا ہے تو اس کا کوئی علاج کسی کے پاس نہیں۔ مگر اپنی طرف سے ایسا موقع نہیں دینا چاہیے کہ ہمارا سچ مشتبہ ہو اور بہترین چیز تو یہ کہ تم اس چیز کو رہنے ہی کیوں دیتے ہو جس سے اعتراضات پیدا ہوتے ہیں۔ کیوں معترضین کو بھی اپنے ساتھ صداقت میں شامل نہیں کر لیتے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی کے بعد ہم نے کتنے 307