خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 291 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 291

خطبات محمود ۲۹۱ سال ۱۹۳۳ء ضابطہ پیش کیا۔اس دن کا یہ مطلب نہیں کہ اسے تماشہ بنا لیا جائے۔اور دلچسپی کا ایک ذریعہ سمجھ لیا جائے۔اگر ہم ایسا کریں گے تو پھر رسول کریم ان کی عظمت کیلئے لوگ اکٹھے نہیں ہوں گے بلکہ تماشا دیکھنے کیلئے آئیں گے۔فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ کچھ دلیر ہوتے ہیں۔وہ تھیٹر میں تماشہ دیکھ لیتے ہیں اور کچھ منافق مولوی ہوتے ہیں۔وہ رسول کریم ای کے نام کی آڑ میں اپنی خواہشات کو پورا کرنا چاہتے ہیں۔پس اس رنگ میں سوائے اس کے کہ لوگ منافق ثابت ہوں اور کیا ظاہر ہو سکتا ہے۔گو رسول کریم یا ان کے نام کے پردہ کے پیچھے ایکٹ کو کسی صورت میں بھی برداشت نہیں کیا جاسکتا۔میں قریباً ہر سال کہتا رہا ہوں کہ جماعت کو ایسا رنگ اختیار کرنے سے پر ہیز کرنا چاہیے۔منتظمین ہاں ہوں بھی کر دیتے ہیں۔مگر باوجود اس کے ہر سال قادیان کے منتظمین اس کا خیال نہیں رکھتے۔کسی ایسے جلوس کا نکلنا جس میں رسول کریم ال ان کے اعمال و اقوال کو خوبصورت پیرایہ میں پیش کیا گیا ہو۔بری چیز نہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی بعض دفعہ جماعت کی ترقی کے خیال کے ماتحت اس قسم کی تجویز کو پسند فرمالیا کرتے تھے کہ بعض شہروں میں جلوس نکالا جائے جس میں سب لوگوں کی ایک ہی طرز کی پگڑیاں ہوں۔پس اس قسم کے جلوس میں تو کوئی حرج نہیں۔لیکن اگر جلوس میں اس قسم کی حرکات اور اس قسم کے اقوال شامل کر لئے جائیں جو ناجائز ہوں تو پھر وہ تبلیغی جلوس نہیں رہتا۔اور گو وہ دلچسپی کا ایک ذریعہ بن سکتا ہے مگر حقیقت کے لحاظ سے وہ ناجائز ہو گا۔اور اس بات کا ثبوت کہ لوگ جلوس میں محض اس کی دلچسپی کی وجہ سے شریک ہوتے ہیں نہ کہ تبلیغی نقطہ نگاہ سے اس بات سے مل سکتا ہے کہ جس طرف نظر اٹھائی جائے بچے اور عورتیں جلوس کی طرف دوڑی چلی آتی ہیں۔حالانکہ جمعہ کا خطبہ ہو رہا ہو، کوئی تقریر ہو یا قرآن مجید کا درس ہو رہا ہو تو لوگ اس شوق نہیں آتے۔جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جلوس میں تبلیغ مد نظر نہیں ہوتی۔بلکہ جلوس محض ایک تماشا ہوتا ہے۔اور اگر یہ تماشا نہیں تو لوگ اس کی طرف کیوں اس قدر متوجہ ہوتے ہیں۔پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ جلوسوں کے ضمن میں جماعت کو یہ امر مد نظر رکھنا چاہیے کہ اسے تماشہ نہ بنایا جائے۔اور قادیان کی جماعت کو اس میں نمونہ بننا چاہیے۔مجھے نہیں معلوم میں نے کسی خطبہ کے ذریعہ اس امر کا اظہار کیا ہے یا نہیں مگر یہ بات یقینی ہے کہ میں ہمیشہ سے یہ نصیحت کرتا چلا آیا ہوں مگر کہنے کا فائدہ بہت کم دیکھا ہے۔میرے نزدیک