خطبات محمود (جلد 14) — Page 287
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء کہنے لگ جائیں گے کہ واقعی اس پر بڑا ظلم ہوا ۔ حالانکہ مومن کو چاہیے کہ اپنے بھائی کے متعلق حسن ظنی سے کام لے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ بات سنانے والے پر ضرور بدظنی کرو لیکن وہ جو بدظنی پیدا کرتا ہے اس کی بات کو بھی بغیر تحقیقات کے نہ مان لو حسن ظنی نیکی اور احسان پہلے گھر سے شروع ہونا چاہئیے ۔ بدظنی سے اسلام نے روکا ہے۔ لیکن جب دو میں سے کسی ایک پر کرنی پڑے تو جسے اللہ تعالیٰ نے ایمان کی توفیق عطا فرمائی ہے، اس میں کوئی نہ کوئی خوبی زیادہ ماننی پڑے گی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہی غلطی پر ہولیکن پہلے تو اس پر حسن ظنی ہونی چاہئیے ۔ ہاں جب معلوم ہو جائے کہ وہ واقعی زیادتی کر رہا ہے تو پھر اس کو روکنا چاہئیے ۔ رسول کریم صلی کہ ہم نے فرمایا ہے کہ اپنے بھائی کی خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم مدد کرو نا ۔ اور صحابہ کے دریافت کرنے پر بتایا کہ ظالم کو ظلم سے روکنا اس کی مدد کرنا ہے۔ لیکن جب تحقیق سے اپنے بھائی کا غلطی پر ہونا معلوم نہ ہو جائے ، اس وقت تک خیال کی بنیا د لا ز ما حسن ظنی پر ہونی چاہئیے ۔ اور اگر دوست اس اصل پر عمل شروع کر دیں تو بہت سے فتنے مٹ جائیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ یہاں ایک شخص عبد اللہ چرخی تھا۔ اس کے پاس اگر کوئی بیٹھتا تو ہمارے بعض دوست گھبراتے کہ کہیں کوئی اثر قبول نہ کرلے۔ حالانکہ اگر کسی پر ایسی باتوں کا اثر ہوتا ہے تو یہ ہماری کمزوری اور ہماری تربیت کا نقص ہے کہ اس کے اندر صدیقیت کا مادہ نہیں پیدا کر سکے۔ انسان کے اندر جب ایمان کی طاقت ہو تو وہ کسی مخالف کے اثر کو قبول کر سکتا ہی نہیں ۔ کئی اعتراضات ایسے ہوتے ہیں جو ہم نے کبھی سنے نہیں۔ مگر جب وہ ہم پر کئے جاتے ہیں تو جواب اللہ تعالیٰ فور اسمجھا دیتا ہے۔ کبھی کسی بڑے سے بڑے لائق اور فاضل انسان کی طرف سے اسلام وجواب تعال فور دیتا بڑے کی سے پر کوئی ایسا اعتراض نہیں کیا گیا جسے سن کر ہم یہ کہنے پر مجبور ہوئے ہوں کہ اچھا اس پر غور کریں گے، فورا اس کا جواب سوجھ جاتا ہے۔ تو ایمان کی کھڑکیاں جب کھلی ہوئی ہوں تو کوئی مخالف طاقت اپنا اثر کر نہیں سکتی ۔ مومن کا فرض ہے کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے بزرگی دی اور ایمان لانے کی توفیق عطا فرمائی ان کی بات کی طرف زیادہ توجہ دے۔ اور اگر ایسا کیا جائے تو سب فتنے مٹ جائیں۔ فتنے دراصل پیدا ہی اس طرح ہوتے ہیں کہ منافقوں کی باتوں پر ایمان لایا جاتا ہے۔ ہم یہ تو مان سکتے ہیں کہ کسی کو کوئی ایسا معاملہ پیش آیا جو سچا تھا۔ اور اس سے اسے ابتلاء آ گیا۔لیکن یہ کہ جو شخص صبح کو بدظن ہوا ، شام کو اس کا مقصد اصلاح ہو گیا یہ خیال کرنا بیوقوفی ہوگی۔ ہر کفر کی ہوا سے دب جانا اور ایمان کی ہوا سے کھڑ اہو جانا کوئی 285