خطبات محمود (جلد 14) — Page 286
خطبات محمود ۲۸۶ سال ۱۹۳۳ء خوبی نہیں ہو سکتی۔اور ایسے شخص کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص سور بیچنے کیلئے گھر سے چلا۔راستہ میں ایک کھمبے کے ساتھ اسے باندھ کر خود قضائے حاجت کیلئے گیا۔اس کھمبے کی تختی کمزور تھی۔سور نے جو زور لگایا تو وہ دوسری طرف ہو گئی اور اس کا رُخ بدل گیا۔وہ جب آیا تو بغیر اس کے کہ وہ غور کرتا کہ میں کدھر سے آیا تھا اور کدھر کو جاتا ہے۔اس نے سور کو کھولا اور جس طرف سختی کا رخ تھا اسی طرف لے کر چل پڑا۔آخر جب گھر پہنچا تو کہنے لگا۔میں نے ساری دنیا کا سفر کرلیا ہے اور زمین گول ہونے کی وجہ سے پھر گھر آگیا ہوں۔تو ایسے لوگ محض سختی کے الٹ جانے سے اُلٹے چل پڑتے ہیں اور آنکھ کھول کر نہیں دیکھتے۔اس قسم کی فطرت ہمیشہ نقصان کا موجب ہوتی ہے۔جس شخص کے دل کی کھڑکیاں کفر کی طرف سے بند ہوں، اس کے اندر کفر کی بات داخل ہی کیسے ہو سکتی ہے۔اور ایمان اس کے اندر داخل ہونے سے کس طرح رہ سکتا ہے۔کمرہ سے باہر دری جھاڑی جائے تو کمرہ کے اندر کی ہر چیز پر گرد نظر آتی ہے۔پھر سوچنا چاہیے کیا ایمان ہی ایسی کمزور چیز ہے کہ کھڑکیاں کھلی ہوں اور وہ اندر نہ آسکے۔حالانکہ ایمان نہایت لطیف چیز ہے۔اور ہر لطیف چیز زیادہ پھیلتی ہے۔اگر کسی نے ایمان کی طرف کی کھڑکی کھولنی ہو تو اس کا یہی طریق ہے کہ أشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ پر عمل کرے۔ایسا انسان خطرہ سے باہر ہو جاتا ہے۔اسے اگر دشمنوں میں بھی پھینک دو تو وہ ان میں سے بھی بعض کو اپنے ساتھ لے آئے گا۔پر کوئی اثر نہ ہوگا اور اگر مومنوں میں ہو تو اور بھی بڑھتا اور ترقی کرتا جائے گا۔پس جو لوگ اپنے ایمان کی اصلاح چاہتے ہیں انہیں چاہیے کہ اس آیت پر غور کریں۔اور اپنے رشتہ داروں، بھائیوں، دوستوں، افسروں، ماتحتوں غرضیکہ کسی موقع پر جب مذہب اور تصدیق كلمات ونشانات الہیہ کا معاملہ ہو تو کسی کی پرواہ نہ کریں۔اور اپنے آپ کو ان کی باتوں بالکل متاثر نہ ہونے دیں۔ہاں جب کوئی دینی معاملہ ہو تو ان کے دلوں کی کھڑکیاں بالکل کھلی ہوں تا اللہ تعالیٰ کا نور ان کے اندر داخل ہوسکے۔اس له الفتح: ٣٠ الفضل ۲۳ - نومبر ۱۹۳۳ء) له السيرة الحلبية جلدا صفحه ۳۰۹ المطبعة الازهرية مصر ۱۹۳۵ء ނ سے ابن دغنہ