خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 286 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 286

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء ہے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لوگ عام طور پر کمزور طبیعت کا انسان سمجھتے ہیں۔ مگر موقع پر معلوم ہوتا ہے کہ دین و مذہب کے بارہ میں آپ کے اندر کس قدر سختی تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں میں بھی آپ کو کمزور طبیعت کا ہی سمجھتا تھا۔ رسول کریم صلی السلام کی وفات پر جب سارے عرب میں بغاوت پھیل گئی اور لوگوں نے زکوۃ کی ادائیگی سے انکار کر دیا تو میں نے آپ سے کہا کہ بہتر ہے کہ کچھ دنوں کیلئے زکوۃ لینی چھوڑ دی جائے ۔ جب لوگ ٹھنڈے ہو جائیں گے تو پھر ان کو سمجھا کر اس پر آمادہ کر لیا جائے گا۔ یہ سن کر حضرت ابو بکر نے خاص طور پر میری طرف دیکھا۔ آپ کے والد کا نام ابو قحافہ تھا۔ اور وہ اگر چہ خاندانی آدمی تھے لیکن مالی لحاظ سے ان کی حالت غربت کی تھی ۔ اس لئے خاندانی ہونے کے باوجود انہیں کوئی خاص عزت حاصل نہ تھی۔ اور حضرت ابوبکر جب اپنی تحقیر کرنا چاہتے تو اپنے آپ کو ابن ابی قحافہ کہتے ۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نے توجہ سے میری طرف دیکھا اور کہا۔ کیا ابن ابی قحافہ کی طاقت اتنی ہے کہ جس چیز کو رسول کریم ملی اسلام نے جاری کیا اسے بند کر دے۔ خدا کی قسم! جو شخص رسول کریم صلی السلام کے زمانہ میں اونٹ کی ایک رسی بھی دیتا تھا وہ اب اگر انکار کرے گا تو میں اس کیلئے بھی اس کے ساتھ جنگ کروں گا۔ عمر ! یہ مت خیال کرو کہ ہم تھوڑے ہیں ۔ اگر دشمن مدینہ کے اندر بھی آجائیں اور کتے نے ہماری عورتوں کی لاشوں کو گھسٹتے پھریں تو بھی میں زکوۃ نہ چھوڑوں گا۔ حضرت عمر کہتے ہیں کہ اس وقت میں نے خیال کیا۔ واقعی شیخ بڑا بہادر ہے ؟ ۔ حضرت عمر محبت کی وجہ سے آپ کو شیخ یعنی بوڑھا کہہ دیا کرتے تھے۔ اور بعد کے واقعات نے بتا دیا کہ اُس وقت کی ذراسی کمزوری کس قدر نقصانات کا کے واقعات نے بے موجب ہو سکتی تھی۔ غور کرو جو شخص مومن کی ذرہ بھر کی تکلیف بھی برداشت نہیں کر سکتا وہ دوسری طرف دین و مذہب کے معاملہ میں اپنے اندر کس قدر سختی رکھتا ہے کہ تمام ملک کی مخالفت کی پرواہ نہیں کرتا۔ بڑے بڑے بہادر گھبرا اُٹھے ہیں اور چاہتے ہیں کہ صلح کر لی جائے مگر وہ اس کیلئے تیار نہیں ہوتا۔ تو جو بات کامیاب کرتی ہے وہ یہی ہے کہ آپس میں محبت ہو۔ مگر جہاں مخالف یا منافق مقابلہ پر آجائے ، مومن اس کی بات نہ سن سکے۔ بہت لوگوں کو میں نے دیکھا ہے کہ وہ کسی کافر یا منافق کی حمایت کریں گے اور احمدی کی مخالفت ۔ جب کسی نے ان سے کہا کہ فلاں احمدی نے مجھے یہ نقصان پہنچایا تو وہ فوراً مان جائیں گے۔ اور اس کی حمایت کرتے ہوئے احمدی کی مخالفت شروع کر دیں گے۔ وہ جھٹ 284