خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 24

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء رم۔ کا بھانجا بھی شامل تھا اس لئے اسے بھی اجازت ہو گئی۔ اس پر صحابہ تو باہر ہی رہے اور وہ اندر چلے گئے اور جا کر اپنی خالہ سے چمٹ گئے اور معافی مانگنے لگ گئے آخر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر رقت طاری ہو گئی اور انہوں نے معاف کر دیا۔ لیکن معاف بھی کس لطیف رنگ میں کیا۔ ان پر اعتراض کیا گیا تھا کہ وہ بہت صدقہ و خیرات کرتی ہیں اس لئے آپ نے فرمایا میں تمہیں معاف تو کرتی ہوں لیکن میں نے عہد کیا تھا کہ اس قسم کو نہیں توڑوں گی اور اگر توڑوں تو پھر کچھ صدقہ و خیرات کروں گی ۔ اب ممکن ہے کچھ سے مراد میں جو کچھ لوں وہ اللہ تعالیٰ کے حضور نہ ہو۔ اس لئے آئندہ میرے پاس جو چیز آیا کرے گی وہ میں صدقہ میں دے دیا کروں گی سے ۔ تو وہی چیز جس سے روکنے کیلئے حضرت عائشہ رضی اللہ کے بھانجے نے اعتراض کیا تھا، اسی کو انہوں نے اپنی زندگی کا جزو قرار دے لیا۔ ورنہ خود رسول کریم صلی ا لی ایم کا حکم ہے کہ صلہ رحمی کرو۔ اور ایک دوسرے سے محبت و پیار رکھو۔ اور ایسے امور میں قسم کا کفارہ دے دینا نہ صرف یہ کہ جائز ہے بلکہ اس کا حکم ہے۔ پس حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جو کچھ کیا ، اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت کیا۔ لیکن باوجود اس کے چونکہ خیال ہو سکتا تھا کہ شاید محبت کے غالب آنے کی وجہ سے آپ نے معاف کیا ہے ، اس وجہ سے آپ نے اس کی تو بہ یہ قرار دی کہ جب تک میں زندہ رہوں گی صدقہ و خیرات کرتی رہوں گی ۔ کیسی لمبی تو بہ ہے اور کتنا چھوٹا فعل تھا۔ کون ہے جو اس طرح ندامت کا اظہار نہیں کر سکتا کہ جب اس سے پوچھا جائے کہ تم نے یہ فعل کیا ؟ تو وہ کہے ہاں جی میں نے کیا مگر میری توبہ ۔ اگر یہی تو بہ ہے تو خدا نے جو نظام قائم کیا ہے وہ کچھ حقیقت نہیں رکھتا۔ اور وہ بالکل بے معنے ہو جاتا ہے۔ رسول کریم صلی السلام کے زمانہ میں وحشی ایک حبشی تھا۔ اس نے اپنے کفر کے زمانہ میں ایک ایسی حرکت کی جس سے رسول کریم صل الله السلام کو سخت صدمہ پہنچا۔ پھر کچھ مدت کے بعد وہ اسلام میں داخل ہو گیا۔ اسلام بذات خود تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ مگر رسول کریم صلی السلام نے اسے فرما یا تم میرے سامنے نہ آیا کرو ۔ وہ تو بہ کر چکا تھا گناہ اس کے معاف ہو چکے تھے پھر بھی اس کا ایک فعل اس پر ایسا داغ لگا چکا تھا جس کا مٹانا اس کیلئے زندگی میں قریباً ناممکن تھا۔ رسول کریم صلی ایلام جانتے تھے کہ میرا فرض ہے کہ میں اس کیلئے دعائیں کروں لیکن ممکن ہے یہ میرے سامنے آ جائے اور اس کے آنے پر میری دعا میں روک واقعہ ہو جائے کیونکہ اس نے ایک عظیم الشان خادمِ اسلام کو شہید کیا تھا۔ پس 22