خطبات محمود (جلد 14) — Page 270
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء اب کوئی غیر قوم مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے میں کامیاب نہیں ہو سکے گی۔ تفرقہ اسی طرح پڑتا ہے کہ جب کسی مفسد کی کوئی بات سنی جائے تو جوش میں آکر بغیر تحقیق کئے اسے درست مان لیا جائے۔ اور لٹھ لے کر دوسرے کے مقابل پر انسان نکل کھڑا ہو۔ لیکن اگر قلب میں سنجیدگی ہو جب کوئی بات بیان کرے تو کہے اچھا میں تحقیق کروں گا۔ اگر یہ بات کہی گئی ہے تو میں پوچھوں گا کہ کیوں کہی گئی۔ پھر اگر میرا قصور ہوا تو میں اپنی اصلاح کر لوں گا۔ اور اگر دوسرے کا قصور ہوا تو اسے ملامت کروں گا تو تفرقہ ڈالنے والا خاموش ہو کر چلا جاتا ہے۔ پس علاوہ اس کے مسلمانوں میں یہ مادہ پیدا ہونے سے ہمارے لئے سہولت ہوگئی ہے۔ مسلمانوں کی عام حالت کے لحاظ سے بھی یہ خوشخبری ہے۔ اور امید پڑتی ہے کہ اگر یہ مادہ ان میں ترقی کرتا گیا تو آئندہ فتنے ان میں ہے۔ اور امید ہے کہ یہ مادہا میں تو فتنے انمیں نہیں اٹھیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ بہت جلد ترقی کر سکیں گے۔ مگر ہمارے لئے یوم التبلیغ اپنے اندر جو سبق رکھتا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے راستہ کھول دیا ہے۔ اگر ہم توجہ کریں گے تو ترقی ہوگی اور اگر نہ کریں گے تو نہیں ہوگی ۔ یہ یوم التبلیغ فرض ہے اور فرض کی ادائیگی ضروری ہوتی ہے۔ مگر رسول کریم صلی سیستم فرماتے ہیں۔ انسان خدا تعالیٰ کا قرب فرائض سے نہیں بلکہ نوافل سے حاصل کرتا ہے سے خلیفہ وقت نے جو کہا اور تم نے مانا وہ تو فرض ادا ہوا لیکن اللہ تعالیٰ کا قرب نوافل سے ملتا ہے۔ اسی لئے رسول کریم ملی ایم نے فرائض سے نوافل زیادہ رکھے ہیں ۔ ظہر کے چار فرض ہیں ۔ مگر آٹھ سنتیں اور نوافل الگ ہیں۔ عصر کے ساتھ یوں تو سنتیں نہیں مگر نوافل کے طور پر چار رکعت پڑھ لی جاتی ہیں ۔ مغرب کے وقت تین فرض ، دو سنتیں اور دونفل ، عشاء کے وقت چار فرض ، دوسنتیں، تین وتر اور پھر بیٹھ کر دوسنتیں ادا کی جاتی چار وتر اور پھربیٹھ کر اداکی ہیں۔ صبح کی نماز کے وقت دو فرض اور دوسنتیں ہیں ۔ مگر اس سے پہلے رات کو تہجد کے وقت آٹھ رکعت نفل پڑھے جاتے ہیں۔ اور اگر اشراق کو شامل کر لیا جائے تو دو نفل وہ ہو جاتے ہیں۔ گویا پینتیس (۳۵) رکعت نوافل رکھے گئے ہیں۔ اور یہ بھی وہ جو مسنون ہیں ورنہ ان کے علاوہ بھی عبادت کرنے کا حکم ہے۔ اس کے مقابلہ میں سترہ (۱۷) رکعت فرائض ہیں۔ گو یا نوافل دُگنے سے بھی زیادہ ہیں۔ پھر فرض کی تو تعداد مقرر ہے مگر نفل کی حد ہی نہیں ۔ پس جب نوافل سے قرب الہی حاصل ہوتا ہے تو مقامی طور پر ہر جماعت کو ہمیشہ تبلیغ کی طرف توجہ کرنی چاہئیے ۔ اور جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اپنی اپنی جگہوں پر ہفتہ وار، پندرہ روزہ 268