خطبات محمود (جلد 14) — Page 270
خطبات محمود የረ ۲۹ چندہ کی باقاعدہ ادائیگی کے متعلق آخری انتباہ فرموده ۱۰ - نومبر ۱۹۳۳ء) سال ۱۹۳۳ء ہوں۔تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- میں سردرد اور گلے کی تکلیف کی وجہ سے اونچا نہیں بول سکتا اور نہ ہی زیادہ بول سکتا لیکن میں اس بات کے متعلق اختصاراً جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ اس سال بجٹ کے موقع پر سب کمیٹی کی سفارش تھی اور اس پر مجلس شوری کی بھی سفارش تھی کہ بجٹ پورا نہ ہو تو چندہ خاص لگایا جائے۔لیکن میں نے فیصلہ کیا تھا کہ پہلے چندہ کی وصولی کے متعلق پوری کوشش کی جائے جو اب تک نہیں ہوتی رہی۔اگر اس کے بعد بھی بجٹ پورا نہ ہو اور نہ ہی قرضہ کی ادائیگی کی کوئی اور صورت نظر آئے تو پھر چندہ خاص لگایا جائے گا۔تشخیص سے معلوم ہوا کہ ہماری آمد کا بجٹ بہت ہی کم تجویز کیا جاتا رہا ہے۔اور در حقیقت اس سے بہت زیادہ آمدنی ہونی چاہیئے تھی۔بہت سے نادہندہ اور کمزور لوگ چندہ کی ادائیگی میں سستی کرتے اور جماعتیں بھی اپنے بجٹ کو پورا کرنے کیلئے کہ انہوں نے تمام رقوم ادا کردی ہیں ایسے نادہندوں کو چندہ کی فہرست سے خارج کر دیتیں جس کی وجہ سے وہ اور ست ہو جاتے۔اور اگر کبھی وقتی جوش کے ماتحت وہ چندہ دے بھی دیتے اور اس طرح ایک جماعت کے چندہ میں اضافہ ہو جاتا تو وہ جماعت مستقل نیک نامی حاصل کرلیتی۔اور اس کے متعلق خیال کیا جاتا کہ اس کا چندہ بہت بڑھ گیا ہے۔یا بعض دفعہ کوئی چُست آدمی بھی اس وجہ سے سست ہو جاتا کہ بجٹ تو پورا ہو ہی چکا ہے، اب مزید چندہ دینے کی کیا ضرورت