خطبات محمود (جلد 14) — Page 267
خطبات محمود ۲۶۷ سال ۱۹۳۳ء ہیں۔اور گو خط سخت الفاظ میں لکھا ہے مگر صاف معلوم ہوتا ہے کہ لکھنے والے کے دل میں سنجیدگی پائی جاتی ہے۔باقی لوگوں کا تجربہ بھی بتلاتا ہے کہ مسلمانوں میں اب سنجیدگی پیدا ہو رہی ہے۔وہ بے شک گالیاں دیں گے مگر ایک قسم کی سنجیدگی اور متانت بھی ان میں نظر آئے گی۔اور جو پہلے ان پر مُردنی چھائی ہوئی تھی، اس میں اب تغیر پیدا ہو گیا ہے۔ایک گالی دینے والا شرارتی ہوتا ہے اور اس کی گالیاں اس کے دل کے بغض و کینہ کا آئینہ ہوتی ہیں۔مگر ایک وسرے کی گالیوں کا موجب بغض نہیں بلکہ محبت اور اصلاح ہوتی ہے۔جیسے بعض ماں باپ غصہ میں اپنے بچوں کو کوستے اور گالیاں دیتے ہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ ان کے دل میں بچہ سے بغض ہوتا ہے بلکہ انہیں غصے کی عادت ہوتی ہے۔اور محبت کے نتیجہ میں وہ گالیاں دیتے ہیں۔اس دفعہ یوم التبلیغ کے موقع پر بعض لوگوں نے یہ بھی مشورہ دیا تھا کہ تبلیغ کی جائے کیونکہ اس طرح فساد ہوگا اور گو انہوں نے میرے نزدیک خیر خواہی سے مشورہ دیا تھا اور اس روح کو ہم قابل قدر سمجھتے ہیں مگر اتنی غلطی ان سے ضرور ہوئی ہے کہ انہوں نے سمجھا سارے مسلمان ظفر علی کی ٹائپ کے ہیں۔دراصل جو شخص پاس ہو، اس کا انسان پر زیادہ اثر ہوتا ہے۔چونکہ ان کے اردگرد ظفر علی ٹائپ کے لوگ رہتے تھے، اس لئے انہوں نے خیال کرلیا کہ سارے لوگ ہی فسادی ہیں۔حالانکہ ہمارے تجربہ نے بتادیا ہے کہ اب مسلمانوں کی حالت بدل چکی ہے۔اور وہ مذہبی عقائد کے متعلق باتیں سننے کیلئے تیار ہیں۔یہ بات اگر قائم رہے تو مسلمانوں کی ترقی کا موجب ہو سکتی ہے۔دراصل ساری تباہیاں اختلاف کے برداشت نہ کرنے کی وجہ سے آتی ہیں۔پس علاوہ اس کے کہ اس طرح وہ ہماری باتیں سن سکیں گے اور اگر اللہ کا فضل شامل حال ہوا تو انہیں ہدایت حاصل ہو جائے گی۔ایک بہت بڑا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ اس رنگ میں مسلمانوں میں اتحاد کی صورت پیدا ہو جائے گی۔جب قوم کی یہ عادت ہو کہ وہ اختلاف کی باتیں نہ سن سکے، مخالف قوم کیلئے اس میں تفرقہ ڈالنا بہت آسان ہوتا ہے۔کیونکہ تفرقہ بے جا جوش میں آجانے والے لوگوں میں ڈالا جاتا ہے۔جس قوم میں سنجیدگی کے ساتھ باتوں میں امتیاز کرنے اور شرافت و سنجیدگی کے ساتھ باتیں سننے کا مادہ ہو، اس میں تفرقہ ڈالنا نا ممکن ہوتا ہے۔پس یہ بات علاوہ احمدیت کیلئے مفید ہونے کے مسلمانوں کے متعلق خوشخبری بھی ہے کہ ان میں اب یہ مادہ پیدا ہو گیا ہے کہ وہ دوسروں کی باتیں حوصلہ اور تحمل سے سن سکتے ہیں۔اور