خطبات محمود (جلد 14) — Page 265
خطبات محمود ۲۶۵ سال ۱۹۳۳ء قرآن مجید کے اس بیان کردہ اصل پر ایمان تو تھا لیکن ہمیں اطمینان بھی حاصل ہو گیا۔اور معلوم ہو گیا کہ یہ قانون ہمارے لئے بھی جاری ہے۔دوسری بات ہمیں یہ معلوم ہوتی ہے کہ مخالفتیں جب جب وہ حق کے مقابلہ پر ہوں ایسا اثر نہیں رکھتیں کہ کامیاب ہو جائیں۔مخالفت ہمیشہ اُسی وقت کامیاب ہوا کرتی ہے جب وہ جھوٹ کے مقابل پر ہو۔ورنہ حق کے مقابل پر مخالفت کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔تیسری بات ہمیں اس سے یہ بھی معلوم ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے احمدیت کو وہ دلائل عطا فرمائے ہیں جن کا مقابلہ کرنے کی کسی میں طاقت نہیں۔بیسیوں مثالیں ایسی ملتی ہیں کہ ہماری جماعت کے ان پڑھ لوگ تبلیغ کے لئے نکلے۔اور مخالف مولویوں کا انہوں نے اس طرح مقابلہ کیا کہ لوگوں کو تسلیم کرنا پڑا کہ ان کے مولوی جواب دینے سے عاجز رہے ہیں۔مزید فائدہ یہ بھی ہوا ہے کہ جن لوگوں نے کبھی تبلیغ نہیں کی تھی، انہیں بھی تبلیغ کی طرف توجہ پیدا ہو گئی۔اور یہ معلوم ہوا کہ بہت سی طبائع احمدیت کی طرف مائل ہیں۔اگر ہم تواتر سے اس اثر کو قائم رکھیں تو تعلیم یافتہ طبقے کا بیشتر حصہ بہت جلد احمدیت میں داخل ہو جائے گا۔نہ صرف اس دفعہ بلکہ ہر دفعہ کے یوم التبلیغ سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ طبائع احمدیت کی طرف مائل ہیں۔نقص صرف یہ ہے کہ انہیں پوری طرح پیغام پہنچایا نہیں گیا۔یا اس طریق پر پہنچایا نہیں گیا جس سے فائدہ حاصل ہو۔عموماً لوگ اس طرح تبلیغ کرتے ہیں کہ محلے کے لوگوں کو باتیں سنانی شروع کر دیں۔مگر اس طرح بہت کم کرتے ہیں کہ کسی تعلیم یافتہ محنتی اور بارسوخ آدمی کے پاس جائیں اور اسے تبلیغ کریں۔عام طور پر ان کا سارا زور ایسے ہی لوگوں کو تبلیغ کرنے پر صرف ہو جاتا ہے جن کی غرض تحقیق حق نہیں ہوتی بلکہ محض بحث کرنا ہوتی ہے۔اور ان کا مسلمان بنانے کا سارا زور شیطانوں پر صرف ہوتا ہے۔ان لوگوں پر خرچ ہوتا ہے جن کو چھیڑ خانی اور بحث کی عادت ہوتی ہے۔پس وہ سارا دن ان سے باتیں کرتے رہتے ہیں اور شام کو جب گھر واپس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم نے خوب تبلیغ کی۔حالانکہ جن سے وہ بحث کر کے آئے ہوتے ہیں وہ شیطان کے چیلے ہوتے ہیں۔اور ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ یہ ہمارے ساتھ بحث میں الجھے رہیں تا ایسے لوگوں کے پاس نہ جاسکیں جو سعادت کا مادہ رکھتے ہیں۔پس چاہیے کہ ایسے لوگوں کے حلقہ سے بچ کر ان لوگوں کے پاس پہنچا جائے جو حق کے متلاشی ہوتے ہیں۔اور خصوصاً ایسے لوگوں سے ملنا چاہیئے جو اپنے اپنے حلقہ میں اثر رکھتے