خطبات محمود (جلد 14) — Page 259
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء استعمال نہیں کرنا چاہئیے ۔ گو نازک مواقع پر ضرورت پیش آتی ہے اور اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ایسے موقع پر جب سلسلہ کے کام میں خلل واقعہ ہونے کا خطرہ ہو خلیفہ کی طرف سے بھی تحریک کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن جو کام ساری جماعت کر رہی ہو اس کے متعلق مرکزی کارکنوں کا یہ کہنا کہ اس کیلئے مرکزی جماعت کو میں تحریک کروں دو ہی معنے رکھ سکتا ہے۔ ایک تو یہ کہ نَعُوذُ بِاللہ قادیان منافقوں کی بستی ہے اس میں ایسے لوگ رہتے ہیں کہ جب تک انہیں کسی کام کیلئے خلیفہ خود نہ کہے گا، وہ کچھ نہ کریں گے۔ یا پھر قادیان کی جماعت پر خطر ناک حملہ کیا جاتا ہے۔ پس یا تو لوکل جماعت کے عہدہ دار بجائے جماعت کی عزت کی حفاظت کرنے کے اس کی تذلیل کرتے ہیں یا پھر واقعہ میں قادیان میں اتنے منافق جمع ہو گئے ہیں کہ سوائے اس کے کہ میرے منہ سے کوئی بات نکلے، کوئی تحریک کامیاب ہی نہیں ہو سکتی ۔ جب کوئی کام کرنے کا موقع آتا ہے میرے پاس اس قسم کی چٹھیاں آنی شروع ہو جاتی ہیں کہ آپ تحریک کریں۔ مثلاً چندہ کرنا ہو تو کہتے ہیں آپ لوگوں سے کہیں تبلیغ احمدیت کے متعلق تحریک کرنی ہو تو کہتے ہیں آپ کہیں ۔ اگر جماعت میں یہ بات نہیں کہ اس پر میری بات کے سواکسی کی بات کا اثر نہیں ہوتا۔ اور وہ کسی کا رکن کی بات ماننے کیلئے تیار نہیں ہو سکتی تو پھر ہر بات کیلئے مجھ سے تحریک کرانا نہایت خطرناک حملہ ہے ان لوگوں پر جن کا اخلاص اسے برداشت نہیں کر سکتا ۔ کیونکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ مخلص احباب کو منافق اور بز دل قرار دیا جاتا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ کچھ بزدل لوگ بھی مرکز میں آ جاتے ہیں ۔ وہ چونکہ باہر مخالفین کا مقابلہ نہیں کر سکتے اس لئے تکالیف سے بچنے کیلئے آجاتے ہیں ۔ مگر مرکز میں ان کی کثرت نہیں کر اسلئے سے بچنے مرکز میں نیکی ہونی چاہئیے اور نہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ان کی کثرت ہے۔ جو لوگ ایسے ہوں ان کو نظر انداز کر دینا بہتر ہے یہ نسبت اس کے کہ خلیفہ کو ایسی تحریکات میں لایا جائے ۔ اگر قادیان اور اس کے ارد گردسو ڈیڑھ سو منافق ہوں تو ان کو چھوڑ دینا بہتر ہے یہ نسبت اس کے کہ خلیفہ سے انہیں کہلا یا جائے اور اس سے تحریک کرائی جائے ۔ اس کے متعلق تحریروں میں تو میں نے کئی بار کہا ہے اور شاید خطبہ میں بھی کہا ہے لوکل کارکنوں اور مرکزی کارکنوں کو خود کام کرنا چاہیے۔ اور اگر کوئی شخص کام نہیں کر سکتا تو اسے وہ عہدہ چھوڑ دینا چاہئیے اور دوسروں کو کام کرنے کا موقع دینا چاہئیے ۔ اگر لوکل جماعت میں اخلاص ہے اور وہ دینی کاموں میں حصہ لینا اپنا فرض سمجھتی ہے تو اس کیلئے خلیفہ سے کہنا کہ وہ اُسے تحریک کرے، اس کے یہ معنی 257