خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 19

خطبات محمود ۱۹ سال ۱۹۳۳ء حصہ چاہتا ہے، سیکنڈ سے بھی تھوڑے عرصہ میں انسانی قلب پر نازل ہو جاتے ہیں۔پس جتنا معلوم ہو اس سے فائدہ حاصل کرنا چاہیے اور جو نہ معلوم ہو، بجائے اس کے کہ اس پر حاوی ہونے کی کوشش کرو اسے اپنے حال پر رہنے دو۔مجھے افسوس سے معلوم ہوا ہے کہ رحم اور گناہ کی کیفیت کے متعلق ہماری جماعت کے لوگوں کا علم نہایت کو تاہ ہے۔کئی سمجھتے ہیں ان کے جو جی میں آئے کہہ دیں اور پھر زبان سے یہ کہنے پر کہ ہم معافی مانگتے ہیں، انہیں کوئی گرفت نہ ہونی چاہیے اور معافی مل جانی چاہیئے۔وہ ہیں ان کا یہ پہلو اختیار کرنا صحیح ہے، حالانکہ ایسی صورت میں وہ معافی نہیں مانگتے بلکہ عفو کا منہ چڑاتے ہیں اور بسا اوقات جب وہ رحم کیلئے اپیل کر رہے ہوتے ہیں، رحم سے ہنسی کر رہے ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو تو بہ کے قابل ظاہر نہیں بنا رہے ہوتے بلکہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہم بے صبر آدمی ہیں۔صحابہ کرام میں ہم دیکھتے ہیں، ان میں سے چند لوگوں کو ایک دفعہ سزائیں ملیں۔انہوں نے سزا کی حکمت کو سمجھا اور کم از کم مجھے کوئی ایسا حوالہ یاد نہیں جس میں یہ ذکر ہو کہ انہوں نے رسول کریم ﷺ سے معافی مانگی ہو۔ممکن ہے ہو۔بعض دفعہ ال انسان بھول بھی جاتا ہے لیکن جہاں تک مجھے یاد ہے سزا کے بعد انہوں نے عفو کی درخواست! نہ کی۔اور میں سمجھتا ہوں ان کیلئے ایسی درخواست کرنا جائز بھی نہ تھا۔سزا کیا ہوتی ہے؟ سزا بسا اوقات ندامت پیدا کرنے کا ایک ذریعہ ہوتی ہے۔سزا بعض اوقات ایک دل کا زنگ دور کرنے کا باعث ہوتی ہے۔پس کیا تم سمجھتے ہو کہ وہ چاقو جسے تیز کرنے کیلئے سان پر چڑھایا جائے اسے اگر زبان دی جائے اور وہ چلائے کہ مجھ پر رحم کرو۔تو اس کی درخواست اس قابل ہوگی کہ اسے قبول کرلیا جائے۔چاقو کیلئے سان پر چڑھنا ضروری ہے تاکہ اس کا زنگ دور ہو۔پس کئی سزائیں دنیا میں رحمت ہوتی ہیں اور کئی سزائیں اظہار ناراضگی کا ایک ذریعہ ہوتی ہیں۔جو حصہ سزا کا اظہار ناراضگی سے تعلق رکھتا ہو، اس میں عفو کی درخواست میں جلدی کرنی چاہیئے۔کیونکہ اپنے پیارے اور محبوب کی ناراضگی کسی صورت میں بھی برداشت نہیں کی جاسکتی۔مگر جو حصہ خفگی یا ناراضگی کا غصے پر دلالت نہیں کرتا بلکہ اصلاح کے پہلو پر حاوی ہو۔اس میں اُس وقت تک معافی کی درخواست نہیں کرنی چاہیے جب تک حقیقی ندامت پیدا نہ ہو یا جو سزا زنگ کے دُور کرنے کیلئے جاری کی گئی ہو اس میں اُس وقت تک عفو کی درخواست نہیں کرنی چاہیئے جب تک زنگ ڈور نہ ہو جائے۔ہاں جو قلبی ناراضگی سے تعلق