خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 230 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 230

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء انہیں ایسے کاموں کی توفیق عطا فرمائے جو خالص اس کی رضا کے ہوں ۔ ان کی تربیت نہایت اعلیٰ پیمانہ پر ۔ اعلیٰ کرے، انہیں دینی خدمات کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے اخلاص میں برکت دے اور نہ صرف انہیں بلکہ تمام نو جوانوں کو توفیق عطا فرمائے۔ ہر شخص ان میں سے اپنے آپ کو تیار رکھے اور ضرورت کے وقت اس کا قدم پیچھے نہ ہٹے بلکہ آگے کی طرف بڑھے۔ خطبہ ثانی میں فرمایا :۔ میں چاہتا ہوں کہ جن دوستوں نے ابھی تک ٹڑکا نہیں کرایا ، وہ ضرور ٹیکا کرالیں۔ کیونکہ جہاں طاعون کے ٹیکا کے متعلق ہمارا یہ فتویٰ ہے کہ مخلص احمدیوں کو نہیں کرانا چاہئیے ، وہاں یہ ٹیکا کرانے میں کوئی حرج نہیں ۔ پچھلے جمعہ میں نے ٹیکا کرایا تھا۔ جس کی وجہ سے نماز جمعہ کے قت بخار ہو گیا اور میں نہ آسکا۔ آج بھی ٹیکا کرا کے آیا ہوں اور اب اپنے جسم میں درد محسوس کرتا ہوں ۔ اس لئے دوست جاتے وقت مجھ سے مصافحہ نہ کریں۔ ( الفضل ۵۔ اکتوبر ۱۹۳۳ء) ا مسلم کتاب الطهارة باب النهي عن التخلي في الطرق والظلال مسلم کتاب البر والصلة باب فضل ازالة الأذى عن الطريق و بخاری کتاب الفرائض باب ميراث البنات ه مسلم كتاب البرو الصلة والادب باب استحباب طلاقة الوجه عند اللقاء ت بخاری کتاب المظالم باب أَعِنْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا بخاری کتاب المظالم باب لَا يَظْلِمُ الْمُسْلِمُ الْمُسْلِمَ وَلَا يُسْلِمُهُ ه بخاری کتاب الادب باب من كان يومن بالله واليوم الآخر فلا يؤذ جارة بخاری کتاب الصلح باب حل يشير الامام بالصلح ن مسلم كتاب السلام باب تحريم مناجاة الاثنين دون الثالث بغيره رضاءه البخارى كتاب الاطعمة باب ما يكره من الثوم وَالْبُقُولِ ۱۲ ۱۳ مسلم کتاب السلام باب الطاعون والطيرة میں حضرت ابو عبیدہ کے یہ الفاظ آئے ہیں افرارًا من قدر الله “ اور حضرت عمر کا جواب بایں الفاظ ہے نفر من قدر الله الى قدر الله 228