خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 228

خطبات محمود ۲۲۸ سال ۱۹۳۳ء انہیں ایسے کاموں کی توفیق عطا فرمائے جو خالص اس کی رضا کے ہوں۔ان کی تربیت نہایت اعلیٰ پیمانہ پر کرے، انہیں دینی خدمات کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے اخلاص میں برکت دے۔اور نہ صرف انہیں بلکہ تمام نوجوانوں کو توفیق عطا فرمائے۔ہر شخص ان میں سے اپنے آپ کو تیار رکھے اور ضرورت کے وقت اس کا قدم پیچھے نہ ہٹے بلکہ آگے کی طرف بڑھے۔خطبہ ثانی میں فرمایا:- میں چاہتا ہوں کہ جن دوستوں نے ابھی تک ٹیکا نہیں کرایا، وہ ضرور ٹیکا کرالیں۔کیونکہ جہاں طاعون کے ٹیکا کے متعلق ہمارا یہ فتویٰ ہے کہ مخلص احمدیوں کو نہیں کرانا چاہیئے، وہاں یہ ٹیکا کرانے میں کوئی حرج نہیں۔پچھلے جمعہ میں نے ڈیکا کرایا تھا۔جس کی وجہ سے نماز جمعہ کے وقت بخار ہو گیا اور میں نہ آسکا۔آج بھی ٹیکا کرا کے آیا ہوں اور اب اپنے جسم میں درد محسوس کرتا ہوں۔اس لئے دوست جاتے وقت مجھ سے مصافحہ نہ کریں۔(الفضل ۵ - اکتوبر ۱۹۳۳ء) له مسلم كتاب الطهارة باب النهي عن التخلي في الطرق والظلال ه مسلم كتاب البر والصلة باب فضل ازالة الاذى عن الطريق کھے بخاری کتاب الفرائض باب ميراث البنات مسلم كتاب البر والصلة والادب باب استحباب طلاقة الوجه عند اللقاء له بخاری کتاب المظالم باب أعِنْ أَحَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا بخاری کتاب المظالم باب لَا يَظْلِمُ الْمُسْلِمُ الْمُسْلِمَ وَلَا يُسْلِمُهُ شه بخاری کتاب الادب باب من كان يومن بالله واليوم الآخر فلا يؤذ جاره شه بخاری کتاب الصلح باب هل يشير الامام بالصلح نه مسلم کتاب السلام باب تحریم مناجاة الاثنين دون الثالث بغیره رضاءه لله بخارى كتاب الاطعمة باب ما يكره من الثوم وَالْبُقُولِ مسلم کتاب السلام باب الطاعون والطيرة میں حضرت ابو عبیدہ کے یہ الفاظ آئے ہیں ”افرارا من قدر الله" اور حضرت عمر کا جواب بایں الفاظ ہے ”نفر من قدر الله الى قدر الله"