خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 226

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء اس کے کہ وہ بچے تھے اور ان کیلئے کھیلنے کا موقع تھا، انہوں نے ایسا نمونہ دکھایا جو دوسروں کیلئے قابلِ شرم ہے۔ اور مجھے بھی اس لئے شرم آئی کہ میں نے دیکھا میرے بچے ان میں نظر نہ آئے۔ میں پوچھنے والا ہی تھا کہ میرے بچے ان میں کیوں شامل نہیں ہوئے اور میں نے اپنی ایک بیوی سے آج ہی اظہار افسوس کیا کہ میں نے تمہارے بچوں کو ان خدمت کرنے والے بچوں میں نہیں دیکھا جس کا مجھے بہت دکھ ہے۔ جب قومی مصیبت کا وقت آئے تو ہر فرد کا کام ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو بطور والنٹیئر پیش کرے۔ فردی مصیبتوں میں بھی اسلام نے ہمدردی کا حکم دیا ہے اور قومی مصیبت تو ایسا رنگ رکھتی ہے جس میں ہمدردی کے لحاظ سے کسی قسم کا دریغ کرنا انسان کو ایمان سے خارج کر دیتا ہے۔ پس نہ صرف یہ کہ لوگوں کو مزاحم نہیں ہونا چاہئے تھا بلکہ ہر ماں باپ کو محسوس کرنا چاہئے تھا کہ ہمارے بچوں کو اس میں کیوں شامل نہیں کیا گیا۔ میں نے بیشک احمد یہ کور کے نو جوانوں کو ہی اس غرض کیلئے تجویز کیا تھا مگر مجھے با یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کور میں صرف پینتیس (۳۵) نو جوان ہیں ۔ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ والنٹیئروں کی اس قدر قلت ہے تو میں حکم دیتا کہ اپنے آپ کو جو شخص چاہے اس خدمت کیلئے پیش کرے۔ میں یہی خیال کرتا رہا ( گو میں پریڈ کے موقع پر دیکھ چکا تھا کہ والنٹیئر صرف اسی قدر نہیں بلکہ باقی پچھلے سال سیکھ چکے ہیں ۔ وہ شامل نہیں کئے گئے ۔ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ اس قدر والنٹیئر ہیں تو میں کہتا کہ باقی نو جوانوں سے بھی امداد حاصل کی جائے تا کہ کسی غلط فہمی کے باعث کوئی نو جوان ثواب سے محروم نہ رہ جائے۔ پس ایک طرف تو میں ان نوجوانوں کی خدمت پر اظہار خوشنودی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ان کی کمزوریوں پر پردہ ڈالے۔ انہیں نیکیوں کی توفیق عطا فرمائے اور اعلیٰ درجہ کی ترقیات عطا کرے۔ اور دوسری طرف میں جماعت کے ان لوگوں پر اظہار افسوس کرتا ہوں جنہوں نے جہالت کا نمونہ دکھایا۔ یا د رکھو ایمان اور علم اکٹھے ہوتے ہیں۔ ایمان اور جہالت اکٹھے نہیں رہ سکتے ۔ إِلَّا مَا شَاءَ اللہ کسی کو غلطی لگے تو یہ اور بات ہے۔ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں ایک دفعہ شدید طاعون پھیلا ۔ آپ نے صحابہ سے مشورہ لیا کہ کیا کرنا چاہئے سب نے کہا کہ لوگ پہاڑوں پر پھیل جائیں ۱۲۔ آج بھی طاعون کا یہ بہترین علاج سمجھا جاتا ہے کہ لوگ کھلی جگہوں میں پھیل جائیں۔ اس وقت ایک صحابی ایسے بھی تھے۔ جن کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی وہ حضرت ابو عبیدہ تھے۔ جو کمانڈر انچیف تھے اور بہت بڑے صحابی تھے۔ 224