خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 224 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 224

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء شاید لمبے امن کے کے نیت نتیجہ میں یا کسی اور وجہ سے میں نے دیکھا کہ اس موقع پر فوڑ ا ہمارے محکموں نے اپنی ذمہ داری کو محسوس نہیں کیا۔ شاید یہ وجہ تھی کہ انہوں نے ابتداء میں خیال کیا کہ ایک دو کیس ہوئے ہیں، خطرے کی کون سی بات ہے۔ حالانکہ اصول یہ ہے کہ جس بیماری کے متعلق یہ معلوم ہو کہ وہ پھیلنے والی ہے اس کا ایک کیس نہیں بلکہ آدھا کیس بھی ہو تو انتظام ضروری ہوتا ہے۔ آدھا کیس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی وبائی مرض کا مریض ایک جگہ ٹھہر کر پھر کسی دوسری جگہ روانہ ہو جائے یا ایک شخص وبائی مرض میں مبتلا ہو کر اچھا ہو جائے تو اس پر بھی ذمہ دار لوگوں کو ہوشیار ہو جانا چاہئے ۔ کیونکہ یہ بیماری اپنی ذات میں ہی ایسی ہے کہ خدا نے اس کو پھیلنے کیلئے بنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گو عام و بائی بیماریوں سے اتنی موتیں نہیں ہوتیں جتنی دوسرے امراض سے ہوتی ہیں۔ مگر وبائی امراض سے عام گھبراہٹ اور بے چینی پیدا ہو جاتی ہے۔ کیونکہ ان کے متعلق امکان ہوتا ہے کہ یہ ملکوں کے ملکوں کا صفایا کر دیں۔ ایک دفعہ روس میں ہیضہ پھیلا۔ وہاں سے یورپ میں گیا اور گاؤں کے گاؤں اس نے ویران کر دیئے ۔ جیسے آندھی چلتی ہے اور چیزوں کو اڑا لے جاتی ہے۔ اسی طرح ہیضہ پھیلا اور سینکڑوں شہر اور دیہات برباد ہو گئے۔ یہی حال طاعون اور انفلوئنزا کا ہوتا ہے۔ جب یہ بیماریاں زور پکڑ جائیں تو ان کا سنبھالنا نہایت مشکل ہوتا ہے۔ یہ بیماریاں آگ کی طرح ہوتی ہیں۔ بچے بھی دیا سلائی جلا کر پھونک مارتے ہیں تو بجھ جاتی ہے۔ لیکن جب آگ قبضہ سے باہر ہو جائے تو کس طرح میلوں میل بربادی پھیلاتی چلی جاتی ہے۔ یہی حال وباؤں کا ہوتا ہے۔ پس وبا کا مقابلہ کرنے کیلئے فورا تیار رہنا چاہئے ۔ کیونکہ خدا نے اس کے اندر یہ خاصیت رکھی ہوتی ہے کہ وہ بڑھے اور پھیلے۔ مگر مجھے افسوس ہے کہ فوری طور پر انتظام نہیں کیا گیا۔ اور جب انتظام کیا گیا تو لوگوں نے اس کا مقابلہ کیا۔ میرے پاس رپورٹیں پہنچی ہیں کہ جب کنوؤں میں دوائی ڈالنے کیلئے بعض کے گھروں پر آدمی گئے تو انہوں نے دوائی ڈالنے والوں کو گالیاں دیں۔ اس ضمن میں میرے پاس ایسے ایسے اشخاص کے نام پہنچے ہیں کہ میں نے پڑھ کر انگشت بدنداں ہونے کے سوا کوئی چارہ نہ دیکھا۔ان میں تعلیم یافتہ لوگ بھی ہیں۔ اور میں سمجھ ہی نہیں سکتا کہ وہ ایسی بیوقوفی کے مرتکب کس طرح ہوئے۔ مجھے تو یہ حالات پڑھ کر وہ قصہ یاد آ جاتا رہا۔ کہتے ہیں کہ کوئی کشمیری سخت گرمی کے دنوں میں دھوپ میں یہ بیٹھا ہوا تھا ایک شخص پاس سے گزرا تو اسے کہنے لگا۔ میاں ! تمہارے پاس ہی سایہ ہے، دھوپ میں کیوں 222