خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 220

خطبات محمود ۲۲۰ سال ۱۹۳۳ء خیال رکھو ہے۔اس طرح باتیں نہ کرو کہ لوگوں کو تمہاری آواز بُری معلوم ہوا۔حتی کہ احساسات کا خیال اس قدر رکھا کہ فرمایا۔جب مجلس لگی ہو تو دو آدمی ایک دوسرے سے کانوں میں باتیں نہ کریں۔شاید کسی کو خیال گزرے کہ وہ اسی کے متعلق باتیں کر رہے ہیں ہے۔مسجدوں میں جاؤ تو بُودار چیزیں کھا کر نہ جاؤ اے۔دیکھو کس طرح کان، ناک، آنکھ اور ہاتھ وغیرہ کا اسلام نے خیال رکھا ہے۔گویا ہر انسانی عضو جو ہے اس کے شر سے لوگوں کو بچانے کی کوشش کی ہے۔اور اس کے خیر سے لوگوں کو متمتع کرنے کی تلقین کی ہے۔بظاہر یہ تمدنی احکام ہیں مگر یہ خدا تعالٰی تک پہنچانے کے ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہیں۔انہی امور کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے دو سال ہوئے "احمدیہ کور" قائم کرنے کا حکم دیا تھا۔مگر مجھے افسوس ہے کہ اب تک محکمہ متعلقہ نے اس حکم کی پورے طور پر تعمیل نہیں کی۔" احمدیہ کو ر" نام کی تو بنی ہوئی ہے مگر جس رنگ میں میں نے حکم دیا تھا، وہ ابھی پورا نہیں ہوا۔میں نے کہا تھا کہ پندرہ سال سے لے کر ۲۵ سال کی عمر تک ہر احمدی کو جبری طور پر اس کور میں بھرتی کیا جائے۔مگر اس حکم کی تعمیل جو کچھ میں نے پچھلے دنوں دیکھی وہ یہ تھی کہ کل ۳۵ نوجوان کور میں موجود تھے۔حالانکہ قادیان میں سے ہی ایک ہزار نوجوان اس عمر کے اکٹھے کئے جاسکتے تھے۔محکمہ متعلقہ نے قادیان سے گل ۳۵ نوجوان جمع کئے ہیں تو یقینا باہر کی جماعتوں کا جو حال جب سکتا ہے وہ ظاہر ہے، بہر حال یہ نقص مجھے نظر آیا۔اس کی طرف تو میں بعد میں توجہ کروں گا مگر ایک چیز جو میرے لئے خوشی کا موجب ہوئی، وہ یہ کہ پریڈ دیکھنے کے معا بعد قادیان میں ہیضہ کی شکایت پیدا ہو گئی۔میں نے "احمدیہ کور" کے نوجوانوں کے متعلق حکم دیا کہ ان کو اس موقع پر بیماروں کی خدمت اور دوسرے کاموں کیلئے بلالیا جائے۔احمد یہ کور میں گو ایسے نوجوان بھی ہیں جن کی اخلاقی حالت پر ہمیں اعتراض رہا ہے۔اور اس کور کی ایک غرض یہ بھی ہے کہ ایسے نوجوانوں کی اصلاح ہو مگر جو رپورٹیں مجھے پہنچی ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لڑکوں نے نہایت ہی محنت کے ساتھ دن رات ایک کر کے کام کیا۔اور یہ بات ہمیں امید دلاتی ہے کہ اگر احمدیہ کور کے نظام کو وسیع کیا جائے تو لڑکوں کی اخلاقی حالت کی درستی میں بھی ہمیں بہت کچھ مدد مل سکتی ہے۔لیکن مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہیضہ کی شکایت کے ایک عام مصیبت کا وقت تھا اور صرف ہیضہ ہی نہیں بلکہ ہر ایک وبا مصیبت ہوتی کیونکہ کوئی پتہ نہیں ہوتا اس میں کون کس وقت مبتلا ہو جائے گا۔اور بعض جگہ تو ایسی ہے۔