خطبات محمود (جلد 14) — Page 218
خطبات محمود (۲۴) تعلق باللہ وشفقت علی خلق اللہ کی لطیف تشریح (فرموده ۲۹ ستمبر ۱۹۳۳ء) سال ۱۹۳۳ء تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں انسان کو اس غرض کیلئے پیدا کیا ہے کہ وہ صفات الہیہ کا مظہر ہو، وہاں اس مقصد کے حصول کیلئے اس نے کچھ ذرائع بھی مقرر کر دیئے ہیں ۔ کچھ تو ایسے ذرائع ہیں جو انسان کی نگاہ کو خالص اللہ تعالیٰ ہی کیلئے کر دیتے ہیں جیسا کہ نماز ہے، روزہ ہے۔ اور کچھ ایسے ہیں جو اس کی توجہ کو بندوں کی طرف پھیر دیتے ہیں ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی دو قسم کی جلوہ گریاں ہیں ۔ اس کی ایک صفات تنز یہی کہلاتی ہے جو اس کو منزہ اور پاک ٹھہراتی ہیں ان تمام قسم کی کثافتوں سے جو مادیات میں پائی جاتی ہیں مخلوقات میں نظر آتی ہیں۔ اور ایک ایسا جلوہ ہے جسے وہ تنزل اختیار کر کے ظاہر کرتا ہے۔ یہ صفات اس کی صفات تشبیہ کہلاتی ہیں۔ یعنی ایسی صفات جو مخلوقات کی صفات سے مشابہہ نظر آتی ہیں ۔ گویا اس کے یہ جلوے اس کی مخلوق جو سے مشابہ ہیں۔ گویا یہ کے ذریعہ نظر آتے ہیں۔ دنیا کا ذرہ ذرہ قطع نظر اس سے کہ بڑا ہو یا اچھا، قطع نظر اس سے کہ نجس ہو یا پاک قطع نظر اس سے کہ سکھ دینے والا ہو یا دکھ دینے والا قطع نظر اس سے کہ غضب ظاہر کرنے والا ہو یا محبت ظاہر کرنے والا ، اس میں اللہ تعالیٰ کا جلوہ نظر آتا ہے اور ہر دیکھنے والے کو نظر آتا ہے۔ پس جہاں اس نے اپنی صفات تنزیہہ کے سمجھنے کیلئے ایسی عبادتیں مقرر کی ہیں جو مخلوقات کی طرف سے انسان کو لا پرواہ کر کے اس کی نظر کو آسمان کی طرف بلند کر دیتی ہیں جیسا 216