خطبات محمود (جلد 14) — Page 217
خطبات محمود ۲۱۷ سال ۱۹۳۳ء کہ نماز ہے، روزہ ہے، حج ہے، وہاں اس نے اپنی صفاتِ تشبیه وکھانے کیلئے اور اپنی صورت تنزلیہ کو ظاہر کرنے کیلئے کچھ ایسے احکام بھی دیتے ہیں جن میں انسان کی نظر بندوں کی طرف جاتی ہے۔تب وہ اللہ تعالیٰ کی ان صفات کو دیکھتا ہے جو اس کے بندوں کے ذریعہ ظاہر ہوا کرتی ہیں۔اور یہی صورت مکمل ہوتی ہے۔وگرنہ ان میں سے کوئی ایک پہلو اپنی علیحدہ صورت میں مکمل نہیں کہلا سکتا۔جولوگ صفات تشبیہ دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں صفات تنزیمہ کو نہیں دیکھتے یا انہیں نہیں جانتے۔وہ لوگ غلطی سے وحدت الوجود کے مرض میں مبتلاء ہو جاتے ہیں۔ہمہ اوستی کہلانے لگ جاتے ہیں۔وہ پیالے کے اندر کے شربت کو تو بھول جاتے ہیں مگر پیالے کو حقیقی مقصود قرار دے لیتے ہیں۔لیکن وہ لوگ جو صفاتِ تشبیه سے نظر ہٹا لیتے ہیں اور صفات تنزیہ کی طرف نظر رکھتے ہیں، وہ بھی دھوکا میں پڑ جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو ایسا محدود قرار دینے لگ جاتے ہیں جس سے خدا کی خدائی ہی باطل ہو جاتی ہے۔ایک علیحدہ عرش پر بیٹھے ہوئے دنیا وَمَافِیهَا سے الگ تھلگ خدا کو ایسی محدود صورت میں پیش کرتے ہیں جس کو قبول کرنے کیلئے انسانی عقل تیار نہیں ہو سکتی۔ایسے لوگ آہستہ آہستہ دعا کی قبولیت کا انکار کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں ایک قانون ہے جو خدا نے جاری کردیا، اس کے مطابق چاہے کوئی مرے یا جیئے ، دعا اس میں کچھ نہیں کر سکتی۔اور کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو کہ قانون کیا؟ ایسی منزہ ہستی کو قانون جاری کرنے کی کیا ضرورت ہے۔بندے آپ ہی آپ پیدا ہوئے اور آپ ہی آپ ایک وقت مقررہ کے بعد دنیا سے چلے جاتے ہیں، خدا کو دنیا سے کیا واسطہ - اسی قسم کے خیالات ترقی کرتے کرتے بعض لوگوں کو وساوس کی دنیا میں ڈال کر آخر دہریہ بنا دیتے ہیں۔مگر کامل مذہب وہی ہے جو خدا تعالیٰ کی ان دونوں قسم کی صفات کو پیش کرتا ہے۔وہ ایک طرف تو خدا تعالیٰ کی شان کو ایسی منزہ صورت میں پیش کرتا ہے کہ مخلوق کی عادات اطوار اور شمائل کو خدا تعالیٰ سے علیحدہ ثابت کرتا ہے اور دوسری طرف اس کے چہرے کو دنیا کے ذرہ ذرہ میں اس طرح دکھا دیتا ہے کہ ہر سمجھدار انسان کو یہ یقین ہو جاتا ہے کہ باوجود ایسی منزه شان رکھنے کے وہ دنیا سے غافل نہیں بلکہ دنیا کا ہر ذرہ اس کی شان کو ظاہر کر رہا ہے۔یہی کیفیت جب بعض لوگوں کے قلوب پر ایک خاص اثر پیدا کرتی ہے تو وہ خاص خاص کیفیات کے ماتحت اپنے اندر ایک خاص قسم کے روحانی جذبات پیدا ہوتے محسوس کرتے ہیں جنہیں لوگ خدا کو دیکھنے یا خدا کی جلوہ گری کے دیکھنے سے موسوم کیا کرتے ہیں۔