خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 214

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء شامل ہونا چاہئے تھا۔ مگر نہیں ، انہیں میراثی سمجھا جاتا ہے۔ ذرا چھی قسم کا میراثی سہی ۔ لیکن میراثی میراثی ہی ہے خواہ وہ اعلیٰ قسم کا ہو یا ادنی قسم کا ، بہر حال ادنی لوگوں میں ہی سمجھا جاتا ہے۔ گزشتہ تیرہ سو سال میں ایسی متعدد مثالیں ملیں گی کہ بڑے بڑے بادشاہوں نے اپنی لڑکیاں بھو کے صوفیاء کو دے دیں۔ مگر مجھے کوئی ایسی مثال یاد نہیں کہ کسی شریف انسان نے اپنی لڑکی دس ہزار ماہوار آمد رکھنے والے قوال کو دے دی ہو۔ ممکن ہے ایسے کمینہ خیالات کا کوئی بادشاہ ہوا ہو لیکن جہاں تک میرا مطالعہ ہے ایسا کسی نے نہیں کیا۔ تیس روپیہ ماہوار آمد رکھنے والے صوفی کو تو لڑکی دے دی مگر کسی نے آج تک کسی بڑے سے بڑے قوال کو یہ نہیں کہا کہ جب تم گاتے ہو تو لوگوں میں روحانیت پیدا ہو جاتی ہے اور خدا تعالیٰ مل جاتا ہے۔ تم بڑے بزرگ ہو میں تمہیں اپنی بیٹی پیش کرتا ہوں کہ اسے خادمہ سمجھو۔ کیا وجہ ہے کہ صوفیاء والا مقام قوالوں کو نہیں دیا جاتا۔ حالانکہ صوفی وہ ہوتا ہے جو خود خدا رسیدہ ہو مگر قوال کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ خدا تک پہنچاتا ہے۔ اگر فطرت کے اندر اس کا عیب مخفی نہیں تو اس کی کیا وجہ ہے کہ کسی قوال کو کسی روحانی مقام پر نہیں سمجھا جاتا۔ میں اپنی بچیوں کیلئے جو استانیاں رکھتا ہوں۔ ان میں سے ایک معلوم نہیں کون سی تھی مگر ایک دن ایک استانی ذکر کر رہی تھی کہ ہمارے ہاں عام لڑکیاں ناچتی ہیں۔ اور اس میں کوئی حرج نہیں۔ میں نے یہ موقع ٹال کر دو تین روز بعد اس رنگ میں کہ وہ سمجھ جائے ، اسے کہا آپ کی قوم میں ایک بہت بڑا ظلم ہوتا ہے۔ اور وہ یہ کہ شرفاء ناچنے والی لڑکیوں سے شادیاں نہیں کرتے حالانکہ یہ پیشہ تو اچھا ہے۔ سب لڑکیاں ہی ناچتی ہیں ۔ کسی نے اس کے عوض میں پیسے لے لئے کسی نے شوقیہ ایسا کر لیا۔ وہ کہنے لگی ناچنے والیوں کو ذلیل ضرور سمجھا جاتا ہے۔ اس پر میں نے کہا کہ یہ یا تو آپ کی سوسائٹی کا نقص ہے کہ ایک اچھے پیشہ کو بُرا سمجھتی ہے یا آپ کے فیصلہ میں نقص ہے کہ ایک برے کام کو اچھا قرار دیا جاتا ہے تو سوسائٹی کا متفقہ فیصلہ ہے کہ یہ پیشہ ذلیل ہے اور باوجود اس کی بہت بڑی تعریف کرنے کے بھی ان لوگوں سے جو اس پیشہ کو اختیار کرتے ہیں شرفاء تعلقات کو اچھا نہیں سمجھتے ۔ باقی رہا یہ امر کہ ایسی مثالیں بھی مل سکتی ہیں کہ امراء نے ناچنے والیوں سے شادیاں کر لیں ۔ تو یا د رکھنا چاہئے کہ سوال عام ہے۔ مثالیں تو ہر بات کی مل جاتی ہیں۔ پس اگر یہ نظمیں ڈھولک وغیرہ کے ساتھ بھروائی گئی ہیں تو جس نے کہا کہ میں نے کوشش سے ایسا کرایا ہے میں اسے کہوں گا کہ تو نے 212