خطبات محمود (جلد 14) — Page 213
خطبات محمود آواز آ رہی ہے فونو گراف یہ سے ڈھونڈو خدا کو دل سے سال ۱۹۳۳ء سے نه لاف و گزاف پس اگر یہ ریکارڈ ایسا ہی ہے تو اس پر ہمارا کوئی اعتراض نہیں۔ اور اگر کسی کے پاس گراموفون ہو اور خریدنے کی طاقت رکھتا ہوتو وہ بیشک اسے خریدے۔ لیکن اگر یہ راگ کے اوز ان میں ہے اور مزامیر کے ساتھ ہے تو یہ نا پسندیدہ ہے۔اس سے وہ غرض جو ان نظموں کی ہے یعنی خشیت الہی پیدا کرنا فوت ہو جاتی ہے۔ اس لئے ایسے ریکارڈ کو خریدنا یا اس میں مدد دینا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام کو برے طریق پر استعمال کرنا ہے۔ اور میں جماعت کو ہدایت کرتا ہوں کہ کوئی ایسا ریکارڈ ہرگز نہ خریدے دوسرے لوگ تو انہیں خریدیں گے نہیں۔ اور اگر ہم بھی نہ خریدیں تو خود بخود ان کا رواج بند ہو جائے گا۔ اور آئندہ کسی کمپنی کو ایسا کرنے کی جرات نہ ہوگی ۔ اس رنگ میں ریکارڈ تیار ہونا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام کی ہتک ہے۔ اور ہر احمدی کا فرض ہے کہ اس کے خلاف پروٹسٹ کرے۔ اس پر بعض کہتے ہیں کہ یوں بھی تم گراموفون کے ریکارڈ سنتے ہو۔ جن میں ڈھولک وغیرہ ہوتی ہے تو اس کا کیا حرج ہے۔ میں انہیں کہوں گا کہ تم تھئیٹر (THEATRE) اور بعض اوقات رنڈیوں کا ناچ بھی دیکھ لیتے ہو۔ لیکن کیا تم کبھی پسند کر سکتے ہو کہ تمہاری بیوی بھی کسی مجلس میں جا کر ناچے۔ اگر تم اس کیلئے تیار نہیں ہو تو ایسا کہنے والے سے میں کہوں گا کہ اے بے حیا ! حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام کیلئے تیرے دل میں اتنی بھی عزت نہیں ۔ جتنی اپنی بیوی کے متعلق ہے۔ جن لوگوں میں یہ چیزیں رائج ہیں وہ کبھی شریف اور اعلیٰ اخلاق والے نہیں سمجھے گئے ۔ ڈھول اور باجہ وغیرہ بجانے اور گانے والے کبھی معززین کے گروہ میں شمار نہیں ہو سکتے خواہ ان میں سے کوئی دس ہزار روپیہ تنخواہ پانے والا ہی کیوں نہ ہوا۔ گر یہ باتیں ہتک کا موجب نہیں تو ان کے اختیار کرنے والوں کو کیوں اتنا ذلیل سمجھا جاتا ہے۔ یورپ میں جو اس وقت موسیقی پرستی میں انتہا تک پہنچ گیا ہے۔ وہاں بھی اس وقت تک یہی حال ہے کہ ناچنے اور گانے والی لڑکیاں شرفاء کے ساتھ شادی نہیں کر سکتیں۔ حتی کہ اگر کوئی نوجوان ایسا کرے تو تمام خاندان اس کا بائیکاٹ کر دیتا ہے۔ اگر یہ افعال اپنی ذات میں پسندیدہ ہوتے تو میں نہیں سمجھتا کہ ان کا ارتکاب کرنے والوں کو سوسائٹی میں کیوں عزت نہ ملتی ۔ اگر واقعی قوالی سے انسان کے اندر نیک خیال پیدا ہوتے ہیں تو قوالوں کو اولیاء اللہ میں 211