خطبات محمود (جلد 14) — Page 211
خطبات محمود ۲۳ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نظموں کے ریکارڈ کے متعلق ضروری اعلان (فرموده ۱۵ ستمبر ۱۹۳۳ء) سال ۱۹۳۳ء تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔ بعد پچھلے ہفتہ ایک واقعہ میرے علم میں لایا گیا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعض نظموں کو گراموفون کے ریکارڈ میں بھرا گیا ہے۔ میں پالم پور میں تھا کہ مجھ سے بعض نو جوانوں نے سوال کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نظمیں ریکارڈ میں بھرنا جائز ہے یا یکارڈ میں بھر نا جائز ہے یا نہیں ۔ میں نے انہیں جواب دیا تھا کہ ریکارڈ اپنی ذات میں کوئی ایسی چیز نہیں جسے ہم جائز یا ناجائز کہہ سکیں ۔ ریکارڈ جائز بھی ہو سکتا ہے اور ناجائز بھی۔ اس میں ثواب کی باتیں بھی ہو سکتی ہیں اور عذاب کی بھی ۔ پس ریکارڈ اپنی ذات میں ایسی چیز نہیں کہ اس کے جائز یا نا جائز ہونے کا سوال پیدا ہو۔ سوال یہ ہے کہ نظمیں اس میں کس طرح بھری گئی ہیں ۔ اس کے بعد جب میں پالم پور سے آتے ہی لاہور چلا گیا تو میرے سامنے یہ سوال پیش کیا گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دو نظمیں ریکارڈ میں لائی گئی ہیں۔ کیا ہمیں وہ ریکارڈ لینے چاہئیں یا نہیں ۔ اُس وقت بھی میں نے یہی جواب دیا کہ ریکارڈ اپنی ذات میں کوئی چیز نہیں ۔ سوال یہ ہے کہ اس میں نظمیں کس طرح بھری گئی ہیں۔ اگر راگ کے وزنوں میں بھری گئی ہیں تو میں اسے ناپسند کرتا ہوں ۔ لیکن اگر معمولی خوش الحانی کے ساتھ شاعری کے اور ان میں قطع و برید کئے بغیر ایسا ہی جیسا کہ ہم عام طور پر خوش الحانی سے سن 209